روسی توانائی ’جابرانہ ہتھیار‘ ہے

روسی کمپنی کے مطابق یوکرین نے اسے دو ارب ڈالر سے زیادہ کے بقایاجات ادا کرنے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروسی کمپنی کے مطابق یوکرین نے اسے دو ارب ڈالر سے زیادہ کے بقایاجات ادا کرنے ہیں

امریکہ کا الزام ہے کہ روس یوکرین کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی تونائی کی رسد کو جابرانہ ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

روس نے یورپی ممالک کو گیس کی سپلائی میں ممکنہ تعطل کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ روس نے اس ممکنہ تعطل کی وجہ وہ قرضے بتائے ہیں جو یوکرین کو توانائی کی مد میں روس کو لوٹانا ہیں۔

اس کے علاوہ نیٹو نے اپنی جانب سے جاری کردہ ان سیٹلائٹ تصاویر کا دفاع کیا ہے جن میں یوکرینی سرحد پر گذشتہ چند ہفتوں کے دوران روسی فوج کا جمع ہونا واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

روسی حکام کا موقف ہے کہ یہ تصاویر اگست میں ہونے والی فوجی مشقوں کی ہیں، جبکہ نیٹو کا کہنا ہے کہ ان تصاویر میں تقریباً 40,000 روسی فوجی مارچ کے آخری دنوں میں یوکرنی سرحد پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان تصویروں میں جدید ترین جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

جمعرات کو نیٹو کے حکام نے کہا تھا کہ وہ روس کے ان تصاویر کے پرانے ہونے کے دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لیے نئی تصاویر جاری کریں گے۔

واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان جن ساکی نے ’روس کی جانب سے توانائی کو بطور جابرانہ ہتھیار‘ استعمال کرنے کی مذمت کی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ یوکرین کو پٹرولیم کے لیے اب جو قیمت روس کو ادا کرنا پڑ رہی ہے اس کا تعین مارکٹ نہیں کرتی۔ انھوں نے کہا کہ امریکی یوکرین کے ساتھ، مالی امداد اور پٹرولیم کی رسد کو یقینی بنانے کے سلسلے میں بات کر رہا ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یورپی یونین کے متعدد ممالک کو گیس کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے کیونکہ ان ممالک کو گیس فراہم کرنے والی پائپ لائینیں یوکرین سے گزرتی ہیں۔

روسی کمپنی گیزپروم کا کہنا ہے کہ یوکرین نے اسے دو ارب ڈالر سے زیادہ کے بقایاجات ادا کرنے ہیں اور حال ہی میں کمپنی نے یوکرین کو دی جانے والی گیس کی قیمت دوگنی کر دی ہے۔

جمعرات کے روز روسی صدر ولادامیر پوتن نے اٹھارہ یورپی ممالک کو پیغام بھیجا ہے کہ یوکرین کی جانب سے روسی گیس کے لیے ادائیگی میں تاخیر سے ’مشکل حالات‘ پیدا ہو گئے ہیں۔

نیٹو نے اپنی جانب سے جاری کردہ ان سیٹلائٹ تصاویر کا دفاع کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشننیٹو نے اپنی جانب سے جاری کردہ ان سیٹلائٹ تصاویر کا دفاع کیا ہے

کریملن سے جاری ہونے والے خط میں کہا گیا ہے کہ اگر یوکرین نے اپنے بقایاجات ادا نہ کیے تو گیزپروم ایڈوانس ادائیگی پر گیس دینا شروع کر دے گا اور اگر وہ ادائیگی بھی نہ کی گئی تو کمپنی مکمل یا جزوی طور پر گیس کی فراہمی بند کر دے گی۔

ماضی میں بھی روس اور یوکرین کے تنازعات کے باعث یورپی ممالک کو گیس کی رسد میں خلل پڑ چکا ہے۔ یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے اب اضافی رسد موجود ہے۔

ادھر بدھ کے روز اعلان کیا گیا تھا کہ یوکرین کے روزبروز خراب ہوتے ہوئے حالات پر بات چیت کرنے کے لیے یورپی یونین، روس، امریکہ اور یوکرین کے سینيئر حکام آئندہ ہفتے ملاقات کر رہے ہیں۔

بحران کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب چہار طرفی ملاقات ہو رہی ہے۔ یہ ملاقات یورپیئن یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرن ایشٹن، امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور ان کے روسی ہم منصب سرگے لاوروف اور یوکرین کے وزیر خارجہ آندرے دیشچتسیا کے درمیان ہوگی۔

دریں اثنا امریکی صدر اوباما نے جرمن چانسلر اینجلا مرکل سے مشرقی یوکرین میں خراب ہوتی ہوئی صورتحال کے بارے میں فون پر بات کی ہے۔ مشرقی یوکرین کے دو بڑے شہروں میں روس کے حامی علیحدگی پسندوں کو سرکاری عمارتوں میں محدود کر دیا گیا ہے۔

صدر اوباما نے چانسلر مرکل سے فون پر بات کی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے چانسلر مرکل سے فون پر بات کی ہے

صدر اوباما نے جرمن چانسلر کو بتایا کہ اگر یوکرین میں حالات مذید خراب ہوتے ہیں تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو روس کے خلاف نئی پابندیاں لگانے کی تیاری کرنی چاہئیے۔

مشرقی یوکرین میں علیحدگی پسند کرائمیا کی طرز پر ایک ریفرنڈم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ فروری میں روس نے یوکرین کے خود مختار علاقے کرائمیا کو اپنے ملک میں شامل کر لیا تھا اور سرحد پر اپنی فوج اکٹھی کر لی تھی۔

یوکرین اور امریکہ نے روس پر روسی بولنے والے یوکرین کے شمالی علاقے میں بطور خاص گڑبڑ پیدا کا الزام لگایا تھا کہ وہ اس بہانے مزید علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ روس ان الزامات کی شدو مد سے تردید کرتا چلا آ رہا ہے۔