جنوبی کوریا کا ’قاتل فوجی‘گھیرے میں

اطلاعات کے مطابق فوجی کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہ AP

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق فوجی کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں

جنوبی کوریا میں فوجیوں نے اپنے اس ساتھی فوجی کو گھیرے میں لے رکھا ہے جس نے ایک دن پہلے اپنے پانچ ساتھیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

ام نامی اس فوجی نے سنیچر کو شمالی کوریا کی سرحد کے قریب واقع ایک چوکی پر اپنے پانچ ساتھیوں کو گولی ماری اور اس کے بعد فرار ہو گیا۔

اتوار کو اطلاعات کے مطابق سرحدی شہر گوسنگ میں سارجنٹ ام اور فوجی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا اور اس میں ایک فوجی زخمی ہوا ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں بی بی سی کے نامہ نگار کیون کم کے مطابق سارجنٹ ام کو ایک پرائمری سکول کے قریب گھیرا ہوا ہے اور اس کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس مقصد کے لیے سارجنٹ ام کے والدین کو بھی بلایا گیا ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سارجنٹ ام نے کس وجہ سے اپنے پانچ ساتھیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔

شمالی کوریا کے سرحد کے ساتھ تعینات جنوبی کوریا کی فوج میں پہلے بھی اس نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں اور نامہ نگار کے مطابق یہاں تعینات فوجیوں کو مشکل حالات کا سامنا ہوتا ہے جس میں تھکا دینے والی ڈیوٹی اور اپنے اہلخانہ سے دور ہونے کی وجہ سے بعض اوقات اہلکاروں کو ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

اس سرحد پر دسیوں ہزار فوجی تعینات ہیں اور اس سرحد کا شمار ان سرحدوں میں ہوتا ہے جہاں پر فوج کی ایک بڑی تعداد تعینات ہے 53-1950 میں ہونے والی کوریائی جنگ کے بعد دونوں ملک اس وقت بھی حالت جنگ میں ہیں۔