جنوبی کوریا کا ساحلی محافظوں کے دستے کو ختم کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہReuters
جنوبی کوریا کی صدر پاک گن ہے نے کہا ہے کہ بحری جہاز ڈوبنے کے واقعے کے تناظر میں ملک کے ساحلی محافظوں کے دستے کو ختم کیا جا رہا ہے۔
ٹیلی ویژن پر خطاب میں صدر نے بحری جہاز غرقاب ہونے پر قوم سے معافی مانگی ہے۔
16 اپریل کو سیول نامی بحری جہاز شمال مغربی علاقے انچیون سے جنوبی سیاحتی جزیرے جیجو کی طرف جا رہا تھا کہ دو گھنٹے کے اندر اندر الٹ کر سمندر کی تہہ میں غرق ہوگیا، جس کے نتیجے میں 281 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ 23 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد جنوبی سیول کے ایک سکول کے طلبہ اور اساتذہ تھے۔
صدر گن ہے نے کہا کہ تحفظ اور بچاؤ کے کام کے لیے ایک نئی ایجنسی قائم کی جائے گی جبکہ تحقیقات کا کام پولیس کرے گی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے صدر کے حوالے سے بتایا کہ ’اس حادثے پر فوری کارروائی نہ کرنے کی ذمہ داری میری بنتی ہے۔‘
جہاز کے کپتان اور عملے کے تین ارکان کے خلاف قتل کے الزمات لگائے گئے ہیں جبکہ عملے کے 11 ارکان پر غفلت برتنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
جہاز پر سوار 476 مسافروں میں سے صرف 172 زندہ بچ پائے تھے، جن میں عملے کے 29 میں سے 22 ارکان بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ جہاز اچانک موڑنے کی وجہ سے الٹ کر ڈوب گیا۔
جہاز ڈوبنے کے حادثے کے واقعے کے بعد حکومتی اقدامات پر تنقید کی گئی تھی۔ اپریل کے آخر میں جنوبی کوریا کے وزیراعظم چنگ ہانگ ون حکومتی اقدامات پر تنقید کے پیشِ نظر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ پہلے استعفیٰ دینا چاہتے تھے تاہم حادثے سے نمٹنا اس وقت زیادہ اہم تھا اور ان کے خیال میں جانے سے پہلے امدادی کام کروانا ذمہ دارانہ رویہ تھا۔
حادثے کے اگلے روز جب وزیراعظم سوگوار والدین سے ملاقات کے لیے گئے تھے تو ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور کسی نے انھیں پانی کی بوتل مارنے کی کوشش کی تھی۔







