جنوبی کوریا:غوطہ خور کشتی میں پھنسی لاشیں نکالنے میں کامیاب

اگر آپریشن نے اتنا طول پکڑا تو کشتی سے کسی کے زندہ نکلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشناگر آپریشن نے اتنا طول پکڑا تو کشتی سے کسی کے زندہ نکلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے

جنوبی کوریا کے سمندر میں امدادی کارروائیوں میں مصروف غوطہ خور پہلی مرتبہ غرقاب کشتی میں پھنسی لاشیں نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

سنیچر کو حکام نے بتایا کہ غوطہ خوروں نے شیشے توڑ کر 22 لاشیں نکالی ہیں جن کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد 54 ہوگئی ہے۔

سیول نامی یہ ’فیری‘ بدھ کو شمال مغربی علاقے انچیون سے جنوبی سیاحتی جزیرے جیجو کی طرف جا رہی تھی کہ دو گھنٹے کے قلیل وقت میں الٹ کر سمندر کی تہہ میں غرق ہوگئی۔

اس حادثے کے بعد 174 افراد کو بچا لیا گیا تھا جبکہ اب بھی 2590 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔ ان میں بڑی تعداد میں سکول کے بچے بھی شامل ہیں جن کی تلاش کے لیے غوطہ خور ٹیمیں سرگرم ہیں تاہم انھیں بپھری لہروں اور گہرائی میں حدِ نگاہ میں کمی جیسی مشکلات کا سامنا ہے۔

کشتی سے لاشوں کی برآمدگی کا عمل کچھ لواحقین نے ٹی وی سکرین پر براہِ راست دیکھا۔

جنوبی کوریا میں حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں ڈوبنے والی مسافر بردار کشتی کے امدادی آپریشن میں دو ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے ادارے ایمرجنسی مینجمنٹ سینٹر کے سربراہ شن وون نام نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ امدادی آپریشن اگر مہینوں نہیں تو کئی ہفتے تک تو ضرور جاری رہ سکتا ہے۔

لاشوں کی برآمدگی کا عمل کچھ لواحقین نے ٹی وی سکرین پر براہِ راست دیکھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلاشوں کی برآمدگی کا عمل کچھ لواحقین نے ٹی وی سکرین پر براہِ راست دیکھا

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک سے دو ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔‘

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر آپریشن نے اتنا طول پکڑا تو کشتی سے کسی کے زندہ نکلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں گے۔

اس معاملے میں سرکاری وکلا نے کہا ہے کہ جب یہ حادثہ پیش آیا تو کشتی کا کنٹرول ایک ایسی خاتون اہلکار کے ہاتھ میں تھا جسے بپھرے ہوئے سمندر میں کشتی رانی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

یہ اہلکار اس وقت سیول نامی اس فیری کے کپتان اور عملے کے ایک اور رکن کے ہمراہ زیرِ حراست ہے۔ سنیچر کو شام گئے سرکاری وکلا نے یہ بتایا ہے کہ کشتی چلانے والی خاتون اس سمندری علاقے سے ناواقف تھی جہاں یہ فیری الٹی۔

کشتی کے 69 سالہ کپتان لی جون سیوک کو اس معاملے میں فرائض سے غفلت برتنے اور سمندری قوانین کی خلاف ورزی سمیت پانچ الزامات کا سامنا ہے۔ انھوں نے سنیچر کو کہا ’مسافروں کے پانی میں بہہ جانے کے خوف کی وجہ سے‘ ان سے کشتی خالی کرنے کا حکم جاری کرنے میں دیر ہوئی۔

لی جون سیوک کو اس معاملے میں فرائض سے غفلت برتنے اور سمندری قوانین کی خلاف ورزی سمیت پانچ الزامات کا سامنا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلی جون سیوک کو اس معاملے میں فرائض سے غفلت برتنے اور سمندری قوانین کی خلاف ورزی سمیت پانچ الزامات کا سامنا ہے

حراست میں لینے کے بعد انھیں سنیچر کو ٹی وی پر دکھایا گیا۔ انھوں نے کہا:’میں اس نقصان کی وجہ سے جنوبی کوریا کے عوام سے معافی مانگتا ہوں۔میں متاثرہ خاندانوں سے معافی مانگنے کے لیے اپنا سر جھکاتا ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ’میں کشتی کے راستے کے حوالے سے ہدایت جاری کیے اور اپنی آرام گاہ میں گیا اور پھر یہ واقعہ پیش آیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ’سمندر میں لہریں بہت تیز اور پانی بہت ٹھنڈا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر مسافر بغیر ذہن بنائے کشتی سے اتر گئے اور اگر انھوں نے لائف جیکٹ نہ پہنی ہو اور اگر پہنی بھی ہو تو وہ آہستہ آہستہ پانی میں بہہ جائیں گے اور انھیں دیگر مشکلات کا سامان ہو گا۔‘

ابھی تک جہاز ڈوبنے کا اصل سبب معلوم نہیں ہو سکا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یا تو اس جہاز کا نچلا ڈھانچہ کسی چٹان سے ٹکرایا تھا یا پھر تیزی سے موڑ کاٹنے کی وجہ سے اس پر لادا سامان کھسک کر ایک طرف چلا گیا اور جہاز کا توازن بگڑ گیا اور یہ ایک طرف کو جھک گیا۔

ادھر اس حادثے میں ہلاک اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے حکام کو لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کے نمونے بھی فراہم کر دیے ہیں۔