جنوبی کوریا: بحری جہاز غرقاب، سینکڑوں افراد لاپتہ

بحری جہاز رفتہ رفتہ ڈوب رہا ہے اور امدادی ٹیمیں اس پر سوار افراد کو بچانے میں لگی ہیں

،تصویر کا ذریعہREUTERS

،تصویر کا کیپشنبحری جہاز رفتہ رفتہ ڈوب رہا ہے اور امدادی ٹیمیں اس پر سوار افراد کو بچانے میں لگی ہیں

جنوبی کوریا میں کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مغربی ساحل کے قریب ایک مسافر بردار بحری جہاز ڈوبنے کے نتیجے میں 300 کے قریب افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بحری جہاز پر 476 افراد سوار تھے۔

حکام کے مطابق حادثے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹوں سے جاری ریسکیو آپریشن کے باوجود 300 کے قریب افراد لاپتہ ہیں۔

اس ریسکیو آپریشن میں 34 بحری فوج، کوسٹ گارڈز اور سویلین جہاز اور 18 ہیلی کاپٹر حصہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اطلاعات کے مطابق امریکہ بھی امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے اپنا ایک بحری جہاز روانہ کر رہا ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ اس بحری جہاز پر سوار مسافروں میں زیادہ تر سیکنڈری سکول کے طلبہ ہیں۔

اس سے پہلے حکام نے کہا تھا کہ 368 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے تاہم اس کے وضاحت کی گئی کی گنتی میں غلطی ہوئی ہے اور 368 کی بجائے 164 کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جہاز سے ہنگامی صورتحال کے سگنل بھیجے گئے اور تقریباً دو گھنٹے کے دوران جہاز غرق ہو گیا اور اس کا تھوڑا سے حصہ ہی پانی سے باہر نظر آ رہا ہے۔

ایک طالب علم نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کے دوست جہاز میں پھنس گئے۔

انھوں نے کہا ہے کہ جہاز ایک جانب کو جھک رہا تھا اور ہمارے میں سے کوئی بھی حرکت نہیں کر رہا تھا کیونکہ ہمیں ہدایت کی گئی تھی کہ حرکت کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

ابھی تک حادثے کی وجوہات کا معلوم نہیں ہو سکا لیکن جنوبی کوریا کے ٹی وی نیوز چینل وائی ٹی این نے ایک مسافر کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے ایک زور کی ٹکر کی آواز سنی اور جہاز رک گیا۔ جہاز اس قدر ترچھا ہو رہا تھا کہ ہمیں اپنی سیٹ پر رہنے کے لیے کچھ پکڑ کر بیٹھنا پڑا رہا ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق رفتہ رفتہ غرق ہونے والے جہاز نے سمندر میں ساحل سے 20 کلو میٹر دور بيونگپونگ جزائر سے خطرے کا سگنل دیا تھا۔