فلپائن:بحری تصادم میں 31 ہلاک، 170 لاپتہ

کشتی کے ڈوبنے کے دوران سینکڑوں مسافر پانی میں کود گئے تھے
،تصویر کا کیپشنکشتی کے ڈوبنے کے دوران سینکڑوں مسافر پانی میں کود گئے تھے

فلپائن میں ایک مسافر کشتی کے مال بردار جہاز سے تصادم میں کم از کم 31 افراد ہلاک جبکہ 170 لاپتہ ہو گئے ہیں۔

فلپائن کے ساحلی محافظین کی طرف سے جاری اعداد وشمار کے مطابق حادثے کے وقت کشتی میں 715 مسافر اور عملے کے 116 افراد سوار تھے۔

ایم وی ایکویناس مسافر کشتی اور مال بردار جہاز کے درمیان یہ حادثہ جمعہ کی شب نو بجے کے قریب ساحل سے دو کلومیٹر دور سمندر میں پیش آیا۔

حادثے کا شکار ہونے والی مسافر کشتی فلپائن کے دوسرے بڑے شہر سیبو سے بندرگاہ کی طرف آ رہی تھی۔

کشتی کے مالک کے ترجمان نے مقامی ریڈیو کو بتایا کہ تصادم بہت شدید تھا اور حادثے کے آدھے گھنٹے کے اندر ہی کشتی ڈوب گئی۔

کشتی میں سوار مسافروں کے مطابق کشتی ڈوبنے کے دوران سینکڑوں مسافر پانی میں کود گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت بہت سے مسافر نیند میں تھے اور اندھیرے کی وجہ سے لوگوں کو باہر نکلنے میں بھی مشکل ہوئی۔

کشتی پر سوار جیرون اگڈوگ نامی شخص نے مقامی ریڈیو کو بتایا کہ ایسا لگتا ہے کہ کچھ لوگ باہر نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے بچوں کا بہت افسوس ہے۔ ہم نے پانی میں لاشیں تیرتی دیکھیں جبکہ کچھ لوگوں کو بچایا بھی گیا‘۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کشتی پر 58 بچے تھے تاہم یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ ان میں کتنے زندہ بچ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کشتی حادثے کے دس منٹ بعد ہی ڈوب گئی۔

کوسٹ گارڈز کے ریئر ایڈمرل لیوس طاوسن نے اے ایف پی کو بتایا کہ سنیچر کو مزید لاشیں نکالی گئی ہیں اور ہلاکتوں کے بڑھنے کا خدشہ ہے۔

انھوں نے کہا ’جس تیزی سے کشتی ڈوبی اس سے لگتا ہے کہ کشتی کے اندر لوگ پھنس کر رہ گئے ہوں گے‘۔

كوسٹ گارڈز کے مطابق مال بردار جہاز سلپيسيو ایکسپریس پر عملے کے 36 ارکان سوار تھے تاہم وہ حادثے کے بعد ڈوبنے سے بچ گیا۔

کوسٹ گارڈز اور کمرشل جہاز کے لوگ تقریباً 600 افراد کو بچانے میں کامیاب رہے۔

زندہ بچ جانے والے زیادہ تر افراد سمندری پانی اور کشتی سے بہنے والے تیل نکلنے کی وجہ سے بیمار ہو گئے۔

بی بی سی کے جنوب مشرقی ایشیا کے نامہ نگار جونتن ہیڈ کا کہنا ہے کہ حادثے کے شکار کشتی کا وزن 11000 ٹن وزن تھا اور وہ 40 سال پرانی تھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ کشتی ٹو گو نامی چینی کمپنی کی ملکیت تھی۔

منیلا میں کوسٹ گارڈز کے ہیڈکوارٹر کے پبلک افیئر کی ایک اہلکار جوئے ویلیج نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعے کو ہونے والے حادثے کی وجوہات کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔

فلپائن لینڈ میں استوائی موسم، مسافر کشتیوں کی خراب حالت اور سکیورٹی ریگولیٹرز کے سختی سے نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے سمندری حادثے عام ہیں۔

سنہ 1987 میں فلپائن میں ڈونا پیج نام کی ایک کشتی کے ایک ٹینکر سے ٹکرا جانے کی وجہ سے چار ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے جبکہ سنہ 2008 میں ایم وی پرنسس نامی کشتی ایک سمندری طوفان میں غرق ہوئی تھی اور اس حادثے میں 800 افراد ہلاک ہوئے تھے۔