جنوبی کوریا میں غرقاب ہونے والے جہاز پر زیادہ تر سیکنڈری سکول کے طلبہ سوار تھے
،تصویر کا کیپشنجنوبی کوریا میں کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب مغربی ساحل کے قریب ایک مسافر بردار بحری جہاز ڈوبنے کے نتیجے میں 300 کے قریب افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ بحری جہاز پر 476 افراد سوار تھے۔ اس وقت درجنوں امدادی کشتیاں اور ہیلی کاپٹر لاپتہ مسافروں کو تلاش کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق حادثے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔اس سے پہلے حکام نے کہا تھا کہ 368 لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم اب اس نے وضاحت کی ہے کہ اس سے گنتی میں غلطی ہوئی تھی اور 368 کی بجائے 164 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنحکام نے بتایا ہے کہ اس بحری جہاز پر سوار مسافروں میں زیادہ تر سیکنڈری سکول کے طلبہ ہیں۔حادثے کی خبر ملتے ہی طلبہ کے والدین اور عزیز سکول پہنچ گئے۔
،تصویر کا کیپشنایک طالب علم کے مطابق جہاز ایک جانب کو جھک رہا تھا اور ہم میں سے کوئی بھی حرکت نہیں کر رہا تھا کیونکہ ہمیں ہدایت کی گئی تھی کہ حرکت کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنایک طالب علم نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان کے دوست جہاز میں پھنس گئے۔
،تصویر کا کیپشنابھی تک حادثے کی وجوہات کا علم نہیں ہو سکا، لیکن جنوبی کوریا کے ٹی وی نیوز چینل وائی ٹی این نے ایک مسافر کے حوالے سے بتایا کہ ’ہم نے ایک زور کی ٹکر کی آواز سنی اور جہاز رک گیا۔ جہاز اس قدر ترچھا ہو رہا تھا کہ ہمیں اپنی سیٹ پر رہنے کے لیے کسی چیز کو پکڑ کر بیٹھنا پڑ رہا تھا۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق رفتہ رفتہ غرق ہونے والے جہاز نے سمندر میں ساحل سے 20 کلومیٹر دور بيونگپونگ جزائر سے خطرے کا سگنل دیا تھا۔
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق غرقاب ہونے والے جہاز پر 900 کے قریب مسافروں کی گنجائش تھی۔