یوکرینی صدر کا یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAFP
یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکو نے ملک کےمشرق میں روس حامی باغیوں کو ہتھیار ڈالنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے ایک ہفتے کے لیے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔
یوکرین کے سکیورٹی فورسز اور روس نواز باغیوں کے درمیان شدید لڑائی ہو رہی تھی جس میں یوکرین میں باہر سے اسلحہ آنے کی خبریں بھی آ رہی تھیں۔
امن منصوبے پر عمل درآمد کرانے سے پہلے جنگ بندی کا اعلان کرنے کی توقع کی جا رہی تھی۔
تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روسی نواز باغیوں نے ہتھیار ڈالنے کے لیے کوئی اشارہ نہیں دیا۔
پیٹرو پوروشنکو نےصدر کی حیثیت سے پہلی دفعہ ملک کے شمال میں فوجی آڈے کا دورہ کیا۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’جنگ بندی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے فوج کے خلاف جارحیت کا جواب نہیں دیں گے، بلکہ اس کا مقصد باغیوں کو ہتھیار ڈالنے کے لیے وقت دینا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنی ریاست کی سرزمین کی حفاظت کی خاطر کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘
روس نے یوکرین کے صدر کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ امن اور مذاکرات کی طرف دعوت کے بجائے ایک الٹی میٹم تھا۔‘
یوکرین کے خبر رساں ادارے نے ایک سینیئر باغی کمانڈر کے حوالے سے بتایا کہ باغی اس وقت تک ہتھیار نہیں ڈالے گے جب تک سرکاری فوج اس خطے سے نکل نہیں جاتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنگ بندی کے اعلان سے ایک دن پہلے ہی صدر پیٹرو پوروشنکو نے اپنی روسی ہم منصب صدر ولادی میر پوتن سے اس ہفتے میں دوسری بار ٹیلی فون پر بات کی۔
صدر پیٹرو پوروشنکو کی طرف سے تجویز کردہ امن منصوبے کے تحت اختیارات کا مقامی سطح پر انتقال ہوگا اور جلد ہی مقامی پارلیمان کے لیے انتخابات کرائے جائیں گے۔
اس منصوبے میں روس اور یوکرین کی سرحد پر دس کلو میٹر بفر زون بنانے کی تجویز ہے اور باغیوں کو کشیدگی والے علاقے سے نکلنے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی گنجائش ہے۔







