برازیل میں عالمی کپ کے آغاز سےتین دن پہلے مظاہرے جاری

،تصویر کا ذریعہv
برازیل میں عالمی فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہونے سے صرف تین روز پہلےساؤ پاؤلو میں میٹرو کے کارکنوں نے مظاہرے کیے ہیں۔ جمعرات کو اسی شہر میں ٹورنامنٹ کا پہلا میچ کھیلا جانے والا ہے۔
میٹرو ورکروں نےگذشتہ جمعرات سے ہڑتال کر رکھی ہے جس سے ساؤ پاؤلو میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ میٹرو کارکن اپنی تنخواہوں میں 12 فیصد اضافے کا ہڑتال کر رہے ہیں۔
اگر یہ ہڑتال رواں ہفتے جمعرات تک جاری رہی تو ورلڈ کپ کا پہلا میچ متاثر ہو سکتا ہے۔
ساؤ پاؤلو میں جمعرات 12 جون کو برازیل اور کروشیا کے درمیان ٹورنامنٹ کا پہلا میچ کھیلا جائے گا۔
پیر کے روز پولیس نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
ساؤ پاولو میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن کے مطابق تقریباً تین سو افراد نے میٹرو یونین کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے مظاہرہ کیا جسے منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔
بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن نے کہا ہے کہ اس دوران ہیلی کاپٹر مسلسل مظاہرین کے اوپر پرواز کرتے رہے۔
برازیل کی صدر جیلما روسیف نے کہا ہے کہ ورلڈ کپ کے موقعے پر پرتشدد مظاہروں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میٹرو ورکروں نے اتوار کے روز ہونے والے اجلاس میں ہڑتال کو غیر معینہ مدت کے لیے جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ میٹرو کارکن ورلڈ کپ پر خرچ ہونے والی رقم پر ناراض ہیں۔
ساؤ پاؤلو کے جس میدان پر پہلا میچ کھیلا جانا ہے وہ شہر سے خاصے فاصلے پر ہے اور اگر پبلک ٹرانسپورٹ بند ہوئی تو لوگوں کو میدان تک پہنچنے میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے پہلے برازیل میں فٹ بال کے عالمی کپ پر اٹھنے والے اخراجات کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔
گذشتہ برس لاکھوں افراد نے عالمی کپ پر اٹھنے والے اخراجات اور بدعنوانی کے خلاف اور عوامی سہولیات میں بہتری کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر میں مظاہرے کیے تھے۔







