السیسی نے مصر کے نئے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

،تصویر کا ذریعہGetty
مصر میں سابق فوجی سربراہ عبدالفتح السیسی نے اتوار کے روز ملک کے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ انھوں نے مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں یکطرفہ کامیابی حاصل کی تھی۔
اس موقعے پر دارالحکومت قاہرہ میں اہم مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ حلف برداری کی تقریب سپریم آئینی عدالت میں ہوئي۔
ریٹائرڈ فوجی جنرل السیسی نے گذشتہ سال جولائی میں پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر محمد مرسی کو ان کے خلاف احتجاج کے بعد معزول کر دیا تھا۔
اس کے بعد سے وہ معزول صدر مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین کے کارکنوں کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ مرسی کی پارٹی نے حالیہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔
مصر میں چھ اپریل سنہ 2011 میں نوجوانوں کی تحریک کے رضاکاروں سمیت لبرل اور سیکیولر رضاکاروں نے بھی مئی 28-26 کے دوران ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔
یہ نوجوان رضا کار سنہ 2011 کے انقلاب میں کلیدی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ انھوں نے حسنی مبارک کو عوامی تحریک کے ذریعے عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ان لوگوں نے شہری حقوق پر قدغن لگانے کے خلاف ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری نتائج کے مطابق 59 سالہ السیسی نے ان انتخابات میں 96.9 فی صد ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے واحد حریف حمدین صباحی کو صرف 3.1 فی صد ووٹ ملے۔
تاہم حالیہ صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 50 فی صد سے کم تھی۔
مصری دارالحکومت سے بی بی سی کی اورلا گیورن کا کہنا ہے کہ ان سب کے باوجود قاہرہ کے تاریخی تحریر چوک پر السیسی کی جیت کا جشن منانے کے لیے بھیڑ امڈ آئے گی۔
ہماری نمائندہ کا کہنا ہے کہ السیسی کو ایک ایسا ملک ملا ہے جو منقسم اور خستہ حال ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر السیسی نے ایک یا دو سال کی مدت میں کچھ نہیں کیا تو ان کے خلاف بھی عوامی بغاوت کا امکان ہے جیسا کہ ان سے پہلے حکمرانوں کے خلاف ہو چکا ہے۔
انتخابات کے بعد ٹی وی پر اپنے خطاب میں السیسی نے کہا کہ وہ ’آزادی اور سماجی انصاف‘ چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس میں سنہ 2011 کے انقلابی نعرے گی بازگشت ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اب کام کرنے کا وقت ہے اور پھر اسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ ’کام اور تعمیر میں ہمارے تعاون سے خوشحالی اور عیش و آرام آئے گا۔‘
مبصرین کے مطابق اس کے علاوہ ان کے سامنے بہت سے چیلنج ہیں۔ ان کو معیشت کو ٹھیک کرنا ہے، غربت میں کمی لانا ہے اور مزید سیاسی بحران کو روکنا ہے۔
السیسی نے ایک ایسے ملک میں امن و امان کی بحالی کا وعدہ کیا ہے جہاں اسلام پسند جنگجوؤں نے گذشتہ 11 مہینوں کے دوران سینکڑوں سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔
جنگجوؤں نے حکومت کی جانب سے مرسی کی پارٹی اخوان المسلمین پر پابندی کے بعد اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ حکومت کی کارروائی میں 1400 افراد مارے گئے ہیں جبکہ 16000 کو حراست میں لیا گیا ہے۔
تجزیہ نگاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عبدالفتاح السیسی اپنے مخالفین کے لیے کسی قسم کی نرمی یا رواداری نہیں دکھائیں گے۔







