مصر: نئے صدر کےانتخاب کے لیے پولنگ جاری

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر میں معزول صدر مرسی کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں اور اس کے لیے پولنگ دو دنوں تک جاری رہے گی۔
پیر اور منگل یعنی 26 اور 27 مئی کو مصر کے پہلے جمہوری طور پر منتخب صدر کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ جاری ہے جس میں صرف دو امیدوار میدان میں ہیں۔
ان انتخابات کے لیے ملک گیر پیمانے پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور سکیورٹی آپریشنز جاری ہیں۔
دریں اثنا سرکاری میڈیا نے محلا شہر میں ایک پولنگ سٹیشن پر ایک دھماکے کی خبر دی ہے۔ تفصیلات ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہیں۔
ان انتخابات کے نتائج کا اعلان پانچ جون کو کیا جائے گا۔ مصر میں گذشتہ دو برسوں میں دوسری بار صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر مرسی گذشتہ سال جولائی میں معزول کر دیئے گئے تھے اور ان کی معزولی میں اہم کردار نبھانے والے سابق فوجی لیڈر عبد الفتاح السیسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس انتخابات میں بہ آسانی کامیابی حاصل کر لیں گے۔
ان کے خلاف واحد امیدوار بائیں بازو کے سینيئر رہنما حمدین صباحی ہیں۔ وہ گذشتہ صدارتی انتخابات میں صدر مرسی کے خلاف بھی امیدوار تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
مصری دارالحکومت قاہرہ میں بی بی سی کے کیون کونولی کا کہنا ہے زبردست سکیورٹی آپریشنز میں فوجی حمایت والی عبوری حکومت کی طرح ببانگ دہل یہ کہا جا رہا ہے کہ ملک میں ’اسلام پسند عسکریت پسندوں کا خطرہ ہمیشہ کی طرح موجود ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
59 سالہ السیسی کئی سال کی سیاسی اتھل پتھل کے بعد ملک میں استحکام کی بات کر رہے ہیں۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ آسانی سے نہ جیتیں تو یہ حیرت کا مقام ہوگا۔‘
صدر مرسی کو گذشتہ سال جولائی میں عوامی مظاہروں کے بعد کئی قسم کے الزامات میں معزول کر دیا گیا اور اب عدالت میں ان پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے لیکن مرسی سختی کے ساتھ اس کی تردید کرتے آئے ہیں۔
صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے فوجی حکام نے ان کی پارٹی اخوان المسلمین پر سختی کی یہاں تک کہ ان کی پارٹی کو ’دہشت گرد تنظیم‘ قرار دیا گیا اور ان کے سینیئر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گيا۔

،تصویر کا ذریعہ.
اپنے انتخابی مہم کے دوران السیسی نے زرعی، ہاؤسنگ، تعلیمی، افلاس زدہ علاقوں کی ترقی کے منصوبے کی بات کہی ہے۔
ان کو متعدد بڑے صنعتکاروں اور تاجروں کے علاوہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے جن میں اسلام پسند سے لے کر معتدل بائیں بازو کی جماعتیں تک شامل ہیں۔
جبکہ دوسری جانب حمدین صباحی نوجوان ووٹروں کو ایک متبادل کی پیش کش کر رہے ہیں کہ ایک فوجی کے مقابلے وہ غیر فوجی امیدوار کو منتخب کریں۔ انھوں نے بدعنوانی اور نااہلی کے خلاف لڑنے کی بات کہی ہے اور اس کے ساتھ شہری حقوق کے فروغ کی بات بھی کہی تاہم دونوں امیدوار اخوان المسلمین کو پھر سے قانونی قرار دیے جانے کے خلاف ہیں۔







