سابق مصری صدر حسنی مبارک کو تین سال قید

حسنی مبارک اور ان کے بیٹے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدالت میں جب سزائیں سنائی گئیں تو حسنی مبارک کٹہرے میں ملگجے سبزی مائل سلیٹی رنگ کا سوٹ پہنے وہیل چیئر پر بیٹھے تھے اور ان کے برابر ان کے بیٹے جیل کا لباس پہنے کھڑے تھے

مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کو غبن کے ایک مقدمے میں قصور وار پائے جانے پر تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے اُن کے دو بیٹوں اعلیٰ اور کمال کو بھی قصور وار پاتے ہوئے چار چار سال جیل کی سزا سنائی ہے۔

عدالت میں جب انھیں سزائیں سنائی گئیں تو حسنی مبارک کٹہرے میں سبزی مائل ملگجے سلیٹی رنگ کا سوٹ پہنے وہیل چیئر پر بیٹھے تھے اور ان کے برابر ان کے بیٹے جیل کا سفید لباس پہنے کھڑے تھے۔

تینوں باپ بیٹوں پر 30 لاکھ ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے اور یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی غبن شدہ رقم بھی واپس کریں۔

86 سالہ حسنی مبارک پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور 2011 میں احتجاج کرنے والوں کی ہلاکت کی سازش کرنے کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ اسی احتجاج کے باعث انھیں مستعفی ہونا اور اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔

ان پر 2012 میں مظاہرین کے خلاف ایسی ہی سازش کرنے کا الزام ثابت ہو چکا ہے اور اس پر انھیں اور اُس وقت کے وزیر داخلہ حبیب العادلی کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔

لیکن ایک اعلیٰ عدالت نے اس فیصلے کے خلاف کی جانے والے اپیل منظور کرتے ہوئے تکنیکی بنیادوں پر مقدمے کی از سرِ نو سماعت کا حکم دیا تھا۔

اگست میں ایک عدالت نے حسنی مبارک کو جیل سے رہا کرنے اور قاہرہ کے ایک فوجی ہسپتال داخل کرنے کی ہدایت کی، جہاں وہ اب بھی زیر حراست ہیں۔

حسنی مبارک کے بعد محمد مُرسی جمہوری طریقے سے صدر منتخب ہوئے تھے لیکن گذشتہ جولائی میں فوج نے ان کا تختہ الٹ دیا جس کے بعد سے لوگوں کی توجہ حسنی مبارک سے بڑی حد تک ہٹ چکی ہے۔

صدر مرسی پر بھی بھی کئی الزامات کے تحت مقدمات چل رہے ہیں جن میں قتل پر اکسانے، جاسوسی اور دھوکے بازی کے الزامات بھی شامل ہیں۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حسنی مبارک اور ان کے بیٹوں نے اب تک جیل میں جو تین سال گزارے ہیں وہ ان کی سزا میں شامل کیے جائیں گے یا نہیں۔