مصر:حسنی مبارک کی نظربندی کا حکم

حازم الببلاوی کے دفتر نے حسنی مبارک کی نظربندی کا اعلان بدھ کو رات گئے کیا
،تصویر کا کیپشنحازم الببلاوی کے دفتر نے حسنی مبارک کی نظربندی کا اعلان بدھ کو رات گئے کیا

مصر میں حکام کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے ایک مقدمے میں ملک کے سابق صدر حسنی مبارک کی بریت اور رہائی کے عدالتی احکامات سامنے آنے کے بعد انہیں ان کی رہائش گاہ پر نظربند کیا جائے گا۔

مصری وزیراعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں نافذ ہنگامی حالت کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

پچاسی سالہ حسنی مبارک کی جیل سے رہائی جمعرات کو متوقع ہے۔

انہیں اب بھی 2011 میں ملک میں ان کے خلاف ہونے والی بغاوت کے دوران مظاہرین کے قتل کی سازش کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں حسنی مبارک کو اقتدار سے علیٰحدہ ہونا پڑا تھا۔

حسنی مبارک کو گزشتہ برس عمرقید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن جنوری 2013 میں اس سزا کے خلاف ان کی اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی گئی تھی جس کے بعد مقدمہ دوبارہ چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔

مقدمے کی دوبارہ سماعت مئی میں شروع ہوئی مگر حسنی مبارک اب اس مقدمے میں سماعت کے آغاز سے قبل زیرِ حراست رکھے جانے کی زیادہ سے زیادہ مدت پوری کر چکے ہیں۔

مصر کی عبوری حکومت کے وزیراعظم حازم الببلاوی کے دفتر نے حسنی مبارک کی نظربندی کا اعلان بدھ کو رات گئے کیا۔

دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایمرجنسی کے قانون کے تناظر میں نائب فوجی کمانڈر نے ایک حکم جاری کیا ہے کہ حسنی مبارک کو ان کی رہائش گاہ پر نظربند رکھا جائے۔‘

خیال رہے کہ مصر میں رواں ماہ فوج کے ہاتھوں اخوان المسلمین سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی کی معزولی کے خلاف احتجاج کرنے والے سینکڑوں مظاہرین کی ہلاکت کے بعد سے ہنگامی حالت نافذ ہے۔

فوج نے اس کریک ڈاؤن کے دوران اخوان المسلمین کے قائد محمد بدیع سمیت سینکڑوں افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

حسنی مبارک کی نظربندی کا حکم آنے سے قبل جب ان کے وکیل فرید الدیب سے پوچھا گیا تھا کہ ان کے موکل کی رہائی کب تک متوقع ہے تو انہوں نے کہا ’شاید کل‘۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی حسنی مبارک کی رہائی اس لیے ممکن نہیں ہو سکی کہ استغاثہ ان کے خلاف نئے مقدمات لے آتا تھا۔

حسنی مبارک کی رہائی کا فیصلہ سامنے آنے پر مبصرین کا کہنا تھا کہ ان کی رہائی اس بات کی علامت ہو گی کہ فوج اب ان تمام تبدیلیوں کو ختم کر رہی ہے جو دو ہزار گیارہ کی عوامی بغاوت کے بعد سامنے لائی گئی تھیں تاہم اب ان کی نظربندی کے احکامات سامنے آنے کے بعد صورتحال تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہے۔