سابق صدر حسنی مبارک کی رہائی کا حکم

مصر کی ایک عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کو بدعنوانی کے مقدمے میں بری کر کے ان کی رہائی کا حکم دیا ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ انھیں بدھ ہی کو جیل سے رہا کیا جائے گا یا نہیں۔ استغاثہ کے وکیل اس عدالتی فیصلے کے خلاف اب بھی اپیل کر سکتے ہیں۔
مصر کے سابق صدر پر 2011 میں ملک میں ان کے خلاف ہونے والی بغاوت کے دوران مظاہرین کے قتل کی سازش اور بدعنوانی کے الزامات کے مقدمے کا دوبارہ سامنا کر رہے تھے۔
<link type="page"><caption> حسنی مبارک پر مقدمہ دوبارہ چلے گا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/03/130303_hosni_mubarak_retrial_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

ان مظاہروں کے نتیجے میں حسنی مبارک کو اقتدار سے علیٰحدہ ہونا پڑا تھا۔
پچاسی سالہ سابق صدر کو جون 2012 میں 2011 کے مظاہروں کے دوران مظاہرین کو ہلاک کرنے کی سازش کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مگر جنوری 2013 میں اس سزا کے خلاف ایک اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی گئی تھی جس کے بعد مقدمہ دوبارہ چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔
مقدمے کی دوبارہ سماعت مئی میں شروع ہوئی مگر حسنی مبارک اس مقدمے کے تحت دی جانے والی سزا کی زیادہ تر مدت پوری کر چکے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حسنی مبارک کے وکیل فرید الدیب سے جب پوچھا گیا کہ ان کے موکل کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد ان کی رہائی کب تک متوقع ہے تو انہوں نے کہا ’شاید کل‘۔
تاہم استغاثہ اس کے خلاف اپیل کرے گا جس سے صدر مبارک کی جیل سے روانگی کئی دنوں تک کے لیے تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی حسنی مبارک کی رہائی اس لیے ممکن نہیں ہو سکی کہ استغاثہ ان کے خلاف نئے مقدمات لے آتا تھا۔
اس بدعنوانی کے مقدمے میں حسنی مبارک پر الزام تھا کہ انہوں نے حکومتی ناشر الاحرام سے تحائف وصول کیے۔
نامہ نگاروں کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان نے اِن مبینہ تحائف کے برابر کی رقم واپس جمع کروا دی ہے جس سے ان کے وکلا کی ان کی رہائی کے بارے میں امید بڑھ گئی تھی۔
مبصرین کا کہنا تھا کہ حسنی مبارک کی رہائی اس بات کی علامت ہو گی کہ فوج اب ان تمام تبدیلیوں کو ختم کر رہی ہے جو دو ہزار گیارہ کی عوامی بغاوت کے بعد سامنے لائی گئیں تھیں۔







