حسنی مبارک کیس، میڈیا کوریج پر پابندی

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو پچھلے سال جون میں مظاہرین کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی
،تصویر کا کیپشنمصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو پچھلے سال جون میں مظاہرین کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی

مصر میں جاری سابق صدر حسنی مبارک کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کرنے والے جج نے اگلی سماعت سے میڈیا کی موجودگی اور کوریج پر پابندی لگا دی۔

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو پچھلے سال جون میں مظاہرین کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام پر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بعد ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا گیا تھا۔

مقدمے کی سماعت کرنے والے جج محمود الرشیدی نے اس پابندی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انیس سے اکیس اکتوبر کے درمیان ہونے والی سماعت میں قومی سلامتی کے امور پر بات ہو گی۔

پچاسی سالہ حسن مبارک کے خلاف 2011 میں مظاہرین کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام پر مقدمہ دائر کیا گیا۔ وکیل صفائی اخوان المسلمین کے کارکنوں اور ملک کی افواج کو اس جرم کا ذمہ دار ثابت کرنا چاہتے ہیں جس میں تقریباً آٹھ سو پچاس افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

حسنی مبارک ، ان کے دونوں بیٹے ، سابق وزیر داخلہ اور چھ سیکیورٹی چیف اس مقدمے میں شامل ہیں۔ اس سے قبل ہونے والے مقدمے کی کچھ سماعت بھی کیمرے سے دور، بند کمروں میں کی گئی تھیں۔

جج محمود الرشیدی نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کو شفاف رکھنے کا وعدہ کیا تھا مگر ہفتے کو ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صحافی کو اگلی سماعت میں آنے کے اجازت نہیں ہو گی اور وکلا کے بیانات بھی شائع نہیں کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرا یہ فیصلہ میڈیا سے کیے گئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں ہے کیونکہ میں نے اعلان کیا تھا کہ عوام کو تمام صورتحال سے آگاہ رکھا جائے گا سوائے مقدمے کی سماعت کے تاکہ ہم گواہ کو بیان دینے کا موقع دے سکیں‘۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا گواہوں کے پاس قاتلوں کے بارے میں معلومات ہیں اور یہ بھی کہ ’کس بین الاقوامی گروہ نے28 جنوری کو اخوان المسلمین کے ساتھ مل کر مظاہرین کو قتل کیا‘۔

اخوان المسلمون کے امیدوار محمد مرسی نے گزشتہ سال منعقد ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں فتح حاصل کی تھی مگر مظاہروں کے بعد فوج نے ان کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔

محمد مرسی کی حکومت معزول ہونے کے کچھ عرصے بعد حسنی مبارک کو رہا کر کے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ ان کے انتیس سالہ دور حکومت میں اخوان المسلمین کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا۔