امریکی صدر اوباما کی آمدنی میں کمی

وائٹ ہاؤس سے جاری تفصیلات میں براک اوباما کے علاوہ جوبائیڈن کی آمدنی بھی دی گئي ہے

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشنوائٹ ہاؤس سے جاری تفصیلات میں براک اوباما کے علاوہ جوبائیڈن کی آمدنی بھی دی گئي ہے

امریکی صدر براک اوباما کی آمدنی سنہ 2013 کے دوران کم ہوئی کیونکہ ان کی کتاب کی فروخت میں کمی آئی ہے۔

تاہم ٹیکس کی ادائیگی کے ان کے دستاویزات سے یہ بات سامنے آئي ہے کہ انھوں نے سنہ 2013 کے لیے پہلے سے زیادہ شرح سے ٹیکس ادا کیا ہے۔

اوباما نے سنہ 2013 میں 481،098 ڈالر کمائے جبکہ سنہ 2012 میں ان کی آمدنی 608،611 ڈالر تھی لیکن انھوں نے 2013 میں اپنی آمدنی پر 20.4 فی صد کی شرح سے ٹیکس ادا کیا جبکہ اس سے ایک سال قبل انھوں نے 18.4 فی صد کی شرح سے ٹیکس دیا تھا۔

کم آمدنی کے باوجود ٹیکس میں ہونے والا یہ اضافہ اوباما کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کے تحت امیروں کو زیادہ ٹیکس ادا کرنے کی بات کہی گئی تھی۔

اس دوران اوباما اور ان کی اہلیہ نے 59،251 ڈالر کی رقم سماجی فلا ح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اداروں کو عطیہ کے طور پر دی تھی۔

انھوں نے مجموعی طور پر 32 اداروں کو عطیے دیے جن میں فشر فاؤنڈیشن کو سب سے زیادہ عطیے دیے گئے۔

اوباما کی آمدنی میں کمی کتابوں کی فرخت میں کمی کا نتیجہ ہے

،تصویر کا ذریعہNA

،تصویر کا کیپشناوباما کی آمدنی میں کمی کتابوں کی فرخت میں کمی کا نتیجہ ہے

واضح رہے کہ سنہ 2009 کے بعد سے اوباما کی آمدنی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

سنہ 2009 میں انھوں نے پہلی بار صدر کا عہدہ سنبھالا تھا اور اس سال ان کی آمدنی 55 لاکھ ڈالر تھی جس میں سے زیادہ تر رقم ان کی کتاب’ ڈریمز فرام مائی فادر‘ اور ’دا آڈیسٹی آف ہوپ‘ سے آئی تھی۔

بطور صدر اوباما کی سالانہ تنخواہ چار لاکھ ڈالر ہے جبکہ امریکہ کی خاتون اول کو 98،167 ڈالر ملتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے نائب صدر جو بائیڈن اور ان کی بیوی جل کی آمدنی کی تفصیلات بھی دی ہے جن کی مجموعی آمدني 407،007 ڈالر ظاہر کی گئي ہے اور انھوں نے 23.7 فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کیا ہے۔