برفانی طوفان کینیڈا میں، نظامِ زندگی متاثر

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکہ میں حالیہ طوفان ملک کی مشرقی ساحلی علاقوں میں تباہی مچانے کے بعد مشرقی کینیڈا میں داخل ہو گیا ہے جس سے وہاں نظامِ زندگی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
کینیڈا کے حکام نے طوفان کی وجہ سے کیوبک سے نیو فاؤنڈ لینڈ تک 200 کلومیٹر طویل ہائی وے بند کر دی ہے۔
اس طوفان میں اب تک دو درجن کے قریب افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
امریکہ میں طوفان کے تیسرے دن جمعے کو بحلی کی تاریں اور درختوں کے گرنے سے تقریباً ساڑھے چار لاکھ گھرانے اور کاروبار بجلی سے محروم رہے۔
برفانی طوفان کی وجہ سے کیوبک اور نیو فاؤنڈ لینڈ میں جمعے کو 30 سنٹی میٹر برف پڑی اور 125 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز آندھی چلی۔
کینیڈا کے مشرقی صوبے نواسکوٹیا میں بھی اس طوفان کی وجہ سے شدید بارشیں ہوئیں۔
کیوبک میں شدید برف باری اور اندھی کی وجہ سے کئی شاہراہوں کے بعض حصے بھی بند کر دیے گئے۔
کینیڈا کے محکمۂ موسمیات کے حکام نے سردی میں آنے والے طوفان کے بارے میں کئی وارننگ جاری کی ہیں اور ملک میں سنیچر اور اتوار کو سخت موسم کی توقع کی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ طوفان بدھ کو امریکہ سے شروع ہوا تھا۔
امریکہ میں بدھ سے شروع ہونے والا طوفان بحرِ اوقیانوس کے ساحلی علاقوں کو برف کی دبیز چادر اوڑھانے کے بعد شمال میں آگے بڑھا ہے۔ اس طوفان میں اب تک درجنوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔
نیویارک میں ایک 36 سالہ حاملہ خاتون برف صاف کرنے والی گاڑی سے ٹکر کے باعث ہلاک ہو گئیں اب ڈاکٹرز ان کے بچے کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گاڑی کے ڈرائیور کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
جارجیا میں پولیس سربراہ نے خراب موسم کے باعث ویلنٹائن ڈے کی تقریبات منسوخ کر دی تھیں۔
رواں سردیوں نے امریکہ کی وسط مغربی جھیلوں کو بھی بیس برسوں میں پہلی بار منجمد کر دیا ہے۔
جارجیا اور جنوبی کیرولائنا سمیت کئی علاقوں میں لگ بھگ ساڑھے چار لاکھ گھروں میں جمعے کی صبح سے بجلی نہیں ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مشرقی ساحلی علاقوں میں رواں ہفتے کے اختتام پر تین انچ تک مزید برف پڑنے کی توقع ہے۔
بعض علاقوں میں سڑکوں کی حالت بہت خراب ہے۔ جمعے کو ایک مقام پر متعدد گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔
واشنگن کے قومی ہوائی اڈے سے جمعے کو 1500 پروازیں منسوخ کی گئی تھی۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکہ میں حالیہ برفانی لہر جسے ’پیکس‘ کا نام دیا گیا ہے اب تک 25 لوگوں کی ہلاکت کا باعث بن چکا ہے۔ اکثر ہلاکتیں سڑکوں پر پیش آنے والے حادثات میں ہوئیں۔
نیویارک اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سمیت امریکی جنوب مشرق سے لے کر شمال مشرق تک آنے والے شدید برفانی طوفان میں کم سے کم دس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی موسمیاتی اور ماحولیاتی ماہرین نے امریکہ کے ایک بڑے حصے جنوب مشرق سے لیکر شمال مشرق تک آنیوالے طوفان کو تاریخی لیکن تباہ کن ہونے سے تعبیر کیا تھا۔
ریاست جارجیا جو طوفان میں بری طرح متاثر ہوا ہے وہاں ریاستی و وفاقی حکومتوں نے ہنگامی حالات کا اعلان کیا تھا۔
امریکی موسمیات کے ٹی وی چینل کے مطابق شدید برفانی طوفان مین پچاس ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان ہوا۔
نیو جرسی سمیت کئی ریاستوں میں بدھ کی شدید برفباری میں بارہ انچ اور کہیں اس سے بھی زیادہ برف پڑی۔ جبکہ نیویارک سمیت شمال مشرق میں برفباری کے ساتھ شدید بارش بھی ہوئی ۔







