شمالی امریکہ میں’دو دہائیوں کا سرد ترین موسم‘

مونٹینا سے میری لینڈ کی ریاستوں تک امریکہ کی تقریباً نصف آبادی کے لیے ’انتہائی سرد‘ ہواؤں کی تنبیہ جاری کی گئی ہے
،تصویر کا کیپشنمونٹینا سے میری لینڈ کی ریاستوں تک امریکہ کی تقریباً نصف آبادی کے لیے ’انتہائی سرد‘ ہواؤں کی تنبیہ جاری کی گئی ہے

شمالی امریکہ میں چلنے والی انتہائی سرد قطبی ہواؤں کی وجہ سے امریکہ اور کینیڈا کے وسیع علاقے میں درجۂ حرارت میں انتہائی کمی کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔

کینیڈا کے کچھ حصوں اور شمالی مشرقی امریکہ میں پہلے ہی برفانی طوفان کی وجہ سے دو فٹ تک برف گر چکی ہے اور یہ گذشتہ دو دہائیوں میں اس علاقے کا سب سے سرد موسمِ سرما قرار دیا جا رہا ہے۔

پیر کو سرد اور خراب موسم کی وجہ سے تقریباً 4500 پروازیں منسوخ کی گئیں اور اس سے پہلے اختتامِ ہفتہ کے دوران یہ تعداد ہزاروں تھی۔

امریکہ میں مونٹینا سے میری لینڈ کی ریاستوں تک ملک کی تقریباً نصف آبادی کے لیے ’انتہائی سرد‘ ہواؤں کی تنبیہ جاری کی گئی ہے اور عوام سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ باہر نکلے تو ان کی جلد جم سکتی ہے۔

کینیڈا میں اونٹاریو کے صوبے میں سرد ہواؤں کی وجہ سے درجۂ حرارت منفی 40 سنٹی گریڈ تک محسوس ہو سکتا ہے۔

شمال مشرقی امریکہ کے رہائشیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ وسط مغربی علاقے سے آنے والی سرد ہواؤں کے لیے تیار رہیں۔

قومی موسمیاتی سروس نے ایک بیان میں اسے ’کئی برسوں کا سرد ترین موسم‘ قرار دیا
،تصویر کا کیپشنقومی موسمیاتی سروس نے ایک بیان میں اسے ’کئی برسوں کا سرد ترین موسم‘ قرار دیا

نیویارک اور واشنگٹن میں منگل کو درجۂ حرارت میں 45 ڈگری تک کمی کا اندیشہ ہے۔ نیویارک کے گورنر کا کہنا ہے کہ ریاست کی مرکزی شاہراہوں کے کچھ حصے شدید سرد موسم کی تیاری کے لیے بند رہیں گے۔

نیویارک میں منگل کو محسوس ہونے والا درجۂ حرارت منفی 26 سنٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

امریکہ کی قومی موسمیاتی سروس کا کہنا ہے کہ سرد موسم کی وجہ سے ملک کے زرعی علاقے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اب سردی کا اثر جنوب میں ٹیکسس اور وسطی فلوریڈا تک محسوس کیا جا سکتا ہے۔

قومی موسمیاتی سروس نے ایک بیان میں اسے ’کئی برسوں کا سرد ترین موسم‘ قرار دیا۔ حکام نے ریاست ٹینیسی اور کینٹکی میں بھی کئی انچ برف پڑنے کی پیشن گوئی ہے جبکہ اوہائیو، جنوبی ڈکوٹا اور الی نوئے کی ریاستیں بھی متاثر ہوں گی۔

امریکہ میں اب تک 16 افراد اس انتہائی سرد موسم اور برفانی طوفان کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

مونٹینا کے علاقے کومر ٹاؤن میں پیر کو کم سے کم درجۂ حرارت منفی 53 سنٹی گریڈ جبکہ ریاست منی سوٹا میں منفی 48 سنٹی گریڈ تک محسوس کیا گیا۔

برفانی طوفان کی وجہ سے نظامِ آمد و رفت بری طرح متاثر ہوا ہے
،تصویر کا کیپشنبرفانی طوفان کی وجہ سے نظامِ آمد و رفت بری طرح متاثر ہوا ہے

خیال رہے کہ اس وقت قطب جنوبی اور روس کے انتہائی سرد علاقے سائبریا میں درجۂ حرارت منفی 33 سنٹی گریڈ ہے۔

منی سوٹا سمیت متعدد امریکی ریاستوں میں سکول بند کر دیے گئے ہیں اور شہریوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے گھروں کے اندر ہی رہیں۔

الی نوئے کے گورنر پیٹ کوئن نے پیر کو طوفان کے بارے میں کہا کہ یہ ’تاریخی‘ ہے۔ سی این این کے مطابق ریاست کے سب سے بڑے شہر شکاگو میں بھی موسم اتنا سرد تھا کہ شہر کے چڑیا گھر میں موجود قطبی برفانی ریچھوں کو بھی باہر نہیں نکلنے دیا گیا۔

شہر کے عوامی باغات بھی بند کر دیے گئے ہیں کیونکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد ہوا کی وجہ سے لوگ ’فراسٹ بائٹ‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

منیئیپلس میں ایک ہسپتال میں شعبہ حادثات کے ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انہوں نے حفاظتی کپڑوں میں ملبوس کچھ لوگوں میں بھی ’فراسٹ بائٹ‘ کے واقعات دیکھے ہیں۔

ادھر کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں درجۂ حرارت منفی 28 جبکہ کیوبیک شہر میں منفی 38 سینٹی گریڈ تک گرا جو کہ گذشتہ دو دہائیوں میں سرد ترین درجہ حرارت ہے۔ اس کے علاوہ مونٹریال اور وِنی پیگ میں درجہ حرارت منفی 26 سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔