کینیا:’سیکس کے بغیر مچھلی ملنا مشکل‘

خواتین کو کشیتاں دینے سےجنسی تعلقات قائم کرنے کی حوصلہ شکنی ہو گی اور ایڈز کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی
،تصویر کا کیپشنخواتین کو کشیتاں دینے سےجنسی تعلقات قائم کرنے کی حوصلہ شکنی ہو گی اور ایڈز کے پھیلاؤ میں کمی آئے گی

افریقہ کے ملک کینیا میں خواتین تاجروں کو مچھلیوں کی مسلسل سپلائی حاصل کرنے کے لیے ماہی گیروں سے جنسی تعلقات قائم کرنا پڑتے ہیں۔

اب خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس مسئلے کی روک تھام کے لیے مہم شروع کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مچھلی حاصل کرنے کے لیے جنسی تعلقات کو مقامی زبان میں’جابویا‘ کہا جاتا ہے اور اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ سے مغربی کینیا کے لیک وکٹوریہ علاقے میں ایچ آئی وی - ایڈز پھیل رہی ہے۔

کینیا کے دی سٹار نامی اخبار کے مطابق کینیا کے تحقیق اور بین الاقوامی ماحولیاتی ترقی کے لیے کام کرنے والے ادارے وکٹیوریا نے اس رجحان کو ختم کرنے کے لیے مہم شروع کی ہے۔

ادارہ خواتین کو اپنی کشتی دیتا ہے، جس کی قیمت وہ مچھلی کا شکار کر کے ادا کر سکتی ہیں۔

ادارے کے اہلکار ڈین ابٹو کا کہنا ہے کہ’ کشتیوں کی قیمت کے بدلے میں جو ادائیگی ہو گی اسے جمع کر کے مزید کشتیاں بنائی جائیں گی۔‘

انھوں نے دی سٹار کو بتایا کہ’اس مہم کا مقصد’جابويا‘ کو عوامی صحت کے لیے خطرہ قرار دینا، غربت کو کم کرنا ہے اور اس کے ساتھ معاشی حالت اور ماحولیات میں بہتری لانا ہے۔‘

مچھلی حاصل کرنے کے لیے جنسی تعلقات کے اس رواج سے بیواؤں کے متاثر ہونے کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر اگر ان کے اوپر خاندان کا بوجھ بھی ہو۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے خواتین کو کشیتاں دینے سے نہ صرف جنسی تعلقات قائم کرنے کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ اس سے ایڈز کے پھیلاؤ میں بھی کمی آئے گی۔

ایک مقامی اہلکار کے مطابق’ایڈز کے پھیلاؤ میں کسی حد تک’جابویا‘ کا ہاتھ بھی ہے اور اگر اس کے خلاف مہم کامیاب رہتی ہے تو ایڈز کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔