’جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے گھاس کاٹنے کی سزا غلط ہے‘

کینیا میں دس لاکھ سے زیادہ افراد نے انٹرنیٹ پر ایک عرضداشت پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ جبری جنسی زیادتی کے تین ملزمان کو دی گئی ’گھاس کاٹنے‘ کی سزا غیر معقول ہے۔
عرضداشت میں کہا گیا ہے کہ یہ سزا تعین کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
ان تین افراد کے خلاف ایک سولہ سالہ لڑکی کے ساتھ بوسیا کے قصبے میں جنسی زیادتی کرنے کا الزام ہے۔ یہ واقعہ منظرِ عام پر آنے کے بعد ملک بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔
ڈائریکٹر عوامی استغاثہ نے قومی پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کریں کہ انتظامی پولیس نے واقعے کی تفتیش کرنے کی بجائے ملزمان کو گھاس کاٹنے کی سزا کیوں دی۔ اطلاعات کے مطابق ملزمان فرار ہو چکے ہیں۔
انٹرنیٹ پر آواز نامی تنظیم کی جانب سے شائع کی گئی اس عرضداشت میں کینیا کی پولیس کے سربراہ ڈیوڈ کیمائیو سے کہا گیا ہے کہ وہ لز نامی اس لڑکی کو انصاف فراہم کریں۔
عرضداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حملہ آوروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور اس لڑکی کا کیس سنبھالنے میں ناکام ہونے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے۔
’ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ لز کا کیس لڑکیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے میں اہم موڑ ثابت ہو۔‘
اس ماہ کے آغاز میں مقامی اخبار ڈیلی نیشن کے مطابق لز پر حملہ اُس وقت کیا گیا جب وہ مغربی کینیا میں بوسیا کے قصبے میں اپنے دادا کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد واپس آ رہی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اخبار کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں لز کی کمر توڑ دی گئی اور اب وہ ویل چیئر استعمال کرتی ہیں۔ یہ اخبار لز کی کہانی بتانے والا پہلا اخبار تھا اور ان کے علاج کے لیے درکار رقم جمع کرنے میں بھی اخبار نے اہم کردار ادا کیا۔







