کیمیائی ہتھیاروں کی پہلی کھیپ شام سے روانہ

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی پہلی کھیپ ڈنمارک کے ایک بحری جہاز کے ذریعے ملک سے روانہ کر دی گئی ہے۔
شام کی شمالی بندر گاہ لاذقیہ سے منگل کے روز کیمیائی ہتھیاروں سے لدا بحری جہاز روسی اور چینی جنگی بحری جہازوں کی نگرانی میں روانہ ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کی مدد سے طے پانے والے معاہدے کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خطرناک ترین اجزا کو تلف کرنا پہلا مرحلہ ہے۔
اس سے پہلے شامی حکام کیمیائی مواد کو لاذقیہ کے مقام پر پہنچانے میں ناکام ہوگئے تھے جس کی وجہ سے گذشتہ منصوبہ کو تبدیل کر دیا گیا تھا۔
اس خطرناک ساز و سامان کو اٹلی لے جایا جائے گا جہاں سے اس امریکی بحریہ کے جہاز پر لاد کر بین الاقوامی سمندر بھیجا جائے گا۔ اس جہاز پر اس مقصد کے لیے ایک مخصوص ٹائی ٹینیئم ٹینک نصب کیا گیا ہے۔
اس تمام کام کو اقوام متحدہ اور انسدادِ کیمیائی ہتھیاروں کی عالمی تنظیم ’آئرگنائزیشن فار دی پروہبیشن آف کیمیکل ویپنز‘ (او پی سی ڈبلیو) مل کر مکمل کر رہے ہیں۔
شامی دارالحکومت دمشق میں 21 اگست 2013 کو سیرن گیس سے لیس راکٹوں کے حملے کے بعد امریکہ اور روس کی مدد سے یہ معاہدہ طے کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ان حملوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مغربی ممالک کا دعویٰ تھا کہ یہ حملہ شامی حکومت نے کیا تاہم بشار الاسد کی حکومت اس الزام کی تردید کرتے ہوئے ان حملوں کا ذمہ دار باغی جنگجوؤں کو ٹھہراتی ہے۔
منگل کے روز ایک بیان میں اقوام متحدہ نے اس بات کی تصدیق کی مہلق ترین کیمیائی مواد سے بھرے چند کنٹینروں کو آرک فیوچرا نامی کارگو بحری جہاز پر لاد کر لے جایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جہاز لاذقیہ میں مزید مواد کے پہنچنے کا انتظار بین الاقوامی سمندر میں کرے گا۔ ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ البتہ یہ مرحلہ کچھ ہی گھنٹوں کا ہے تاہم یہ انتہائی حساس مرحلہ ہے اور اس کی تیاری میں کئی ماہ کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔
اقوام متحدہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کیمیائی مواد شام میں دو مقامات سے لایا گیا ہے تاہم ان مقامات کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
او پی سی ڈبلیو نے یہ بھی ظاہر نہیں کیا ہے کہ شام کے کل 1300 ٹن کیمیائی ہتھیاروں میں سے کتنی مقدار کو ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔







