خفیہ نگرانی کا امریکی پروگرام محدود کرنے کی سفارش

ایڈورڈ سنوڈن نے پہلی بار امریکہ کے خفیہ پروگرام کے بارے میں راز افشا کیا تھا اور پھر یہ پتہ چلا کہ امریکہ دوست ممالک سمیت اپنے شہریوں کی بھی نگرانی کرتا ہے
،تصویر کا کیپشنایڈورڈ سنوڈن نے پہلی بار امریکہ کے خفیہ پروگرام کے بارے میں راز افشا کیا تھا اور پھر یہ پتہ چلا کہ امریکہ دوست ممالک سمیت اپنے شہریوں کی بھی نگرانی کرتا ہے

امریکہ میں خفیہ نگرانی کے پروگرام پر صلاح دینے والی کمیٹی نے این ایس اے کے اس متنازع پروگرام کو ختم کرنے کا مشورہ تو نہیں دیا ہے لیکن اس پر لگام لگانے اور اسے شفاف بنانے پر زور دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے نے واشنگٹن سے بتایا ہے کہ ’کمیٹی نے یہ مشورہ دیا ہے کہ مستقبل میں غیر ملکی رہنماؤں کی خفیہ نگرانی کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر اجازت نامہ چاہیے یعنی ان کی نگرانی کے لیے امریکی صدر سے منظوری حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے۔‘

اس کے علاوہ اس میں یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کے ٹیلی فون، ای میل اور ٹیکسٹ میسجز سے حاصل شدہ معلومات این ایس اے کے پاس نہ رہیں۔ اسے کسی تیسری پارٹی یا اس ٹیلی فون کمپنی کے پاس رہنے دیا جائے جس کے ذریعے یہ معلومات حاصل کی گئی ہوں۔

واضح رہے کہ اس کمیٹی کی تشکیل صدر اوباما نے کی تھی۔ اس کمیٹی نے اپنی 308 صفحات کی رپورٹ میں 46 سفارشات پیش کی ہیں۔

صدر اوباما نے اس کمیٹی کی تشکیل اس وقت کی تھی جب این ایس اے کے لیے کام کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ امریکہ کس طرح اپنے دوست ممالک سمیت اپنے شہریوں کی بھی نگرانی کرتا ہے۔

فی الحال سنوڈن روس میں پناہ گزین ہیں اور امریکہ میں انھیں عام معافی دیے جانے کی باتیں بھی گرم ہیں۔

ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کی ٹیلی فون پر کی جانے والی بات چیت کی معلومات حاصل کرنے سے پہلے وفاقی عدالت کی منظوری ضروری ہوگی۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت کو یہ بتانا ہو گا کہ یہ معلومات دہشت گردی سے منسلک ہیں یا پھر کسی دوسرے خفیہ پروگرام سے۔

امریکہ کے وفاقی جج کی جانب سے اس نگرانی کے پروگرام کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد اس کا جائزہ لیا گیا۔

این ایس اے کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے تحت وہ صرف یہ اعداد و شمار جمع کرتے تھے کہ کن کن نمبروں پر بات چیت کی جا رہی ہے اور کن نمبروں پر زیادہ بات کی جا رہی ہے، اور پھر شک کی بنیاد پر تفصیلی جانچ کی جاتی تھی۔

سابق خفیہ حکام کا کہنا ہے کہ این ایس اے کو لگام دینے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں اس سے ملک کا سکیورٹی نظام کمزور ہوگا اور اس پروگرام کا مقصد کسی کی ذاتی زندگی میں جھانکنا نہیں ہے۔

بعض دوسرے ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس اور اوباما انتظامیہ ان اصلاحات کے ذریعے این ایس اے میں ضروری تبدیلی لانے اور اسے بہتر بنانے کی جانب حوصلہ افزائی کریں گے۔

این ایس اے کے نگرانی پروگرام کے بارے میں کمیٹی نے اپنی 308 صفحات کی رپورٹ میں 46 سفارشات پیش کی ہیں
،تصویر کا کیپشناین ایس اے کے نگرانی پروگرام کے بارے میں کمیٹی نے اپنی 308 صفحات کی رپورٹ میں 46 سفارشات پیش کی ہیں

اس سے قبل بدھ کو صدر براک اوباما نے خفیہ اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے جائزہ گروپ کے پانچ ارکان سے ملاقات کی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے كارنی کا کہنا تھا کہ ’اس جائزہ اجلاس میں جو سفارشات کی گئی ہیں ان کی اشاعت جنوری میں ہونی تھیں لیکن میڈیا میں اس کے بارے میں غلط رپورٹ آنے کی وجہ سے اس کی اشاعت کی جا رہی ہے۔‘

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’صدر اوباما نے کمیٹی کی سفارشات سے بھی پرے جا کر اس معاملے پر غور کیا ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ اس گروپ نے رائے عامہ کے تحت فیصلہ کیا ہے اور اس کمیٹی میں شامل افراد دہشت گردی کی روک تھام، خفیہ اداروں، عام شہری اداروں اور پرائیویسی جیسے شعبوں میں کام کر چکے ہیں۔‘

صدر اوباما نے اس گروپ سے کہا: ’امریکہ اپنی خفیہ معلومات کا استعمال قومی سلامتی کے لیے کرتا ہے اور وہ یہ کام خارجہ پالیسی، رازداری اور مساوی شہریت اور عوام کے اعتماد کو ذہن میں رکھ کر کرتا ہے۔‘

یہ خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ کمیٹی کی طرف سے کی جانے والی سفارشات کی مخالفت ہوگی اور خفیہ اداروں کے حکام اس میں پیش پیش ہونگے۔ ایسے میں ان میں سے کتنی سفارشات اوباما انتظامیہ کو منظور ہوگی وہ ابھی غیر واضح ہے۔