بعض اوقات اداروں نے حد سے تجاوز کیا: جان کیری

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی اداروں نے دہشتگردی کو روکنے کے لیے نگرانی کے پروگرام کے دوران بعض اوقات حد سے تجاوز کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری اوباما انتظامیہ کے سب سے اعلیٰ اہلکار ہیں جنہوں نے تسلیم کیا ہے کہ امریکی اداروں نے جاسوسی کے دوران حد سے تجاوز کیا ہے۔
البتہ جان کیری نے امریکہ کے نگرانی کے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے دہشتگردوں کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ انھوں نے نائن الیون کے علاوہ لندن اور میڈرد میں ہونے والے حملوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کو مل کر ’انتہا پسندی کے خلاف لڑنا ہے جو کہ لوگوں کو مارنے، انھیں دھماکے سے اڑانے اور حکومتوں پر حملہ کرنے کے لیے کمربستہ ہے۔‘
<link type="page"><caption> امریکہ: ’جاسوسی‘ پر یورپی حکومتوں سے تعلقات متاثر ہوئے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131026_eu_germany_us_spy_update_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> امریکی ’جاسوسی‘ پر یورپ غصے میں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/10/131025_eu_france_germany_us_agreement_tk.shtml" platform="highweb"/></link>
انھوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس سنہ 2001 کے بعد سے مواصلات کی نگرانی کے ذریعے کئی حملوں کو روکنے میں کامیاب رہی ہے۔
کیری نے اس بات کی یقین دہانی کرانے کی بھی کوشش کی کہ ایسے اقدامات نہیں دہرائے جائیں گے جنھوں نے جرمنی جیسے قریبی حلیف تک کو بدظن کر دیا ہے۔
کیری نے لندن کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’میں آپ لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں بے قصور لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گي تاہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا: ’ہاں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ بعض معاملوں میں غیر مناسب طور پر حد سے تجاوز ہو گيا ہے۔ جیسا کہ صدر (اوباما) نے بھی کہا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں مستقبل میں ایسا نہ ہو۔‘

واضح رہے کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) پر جاسوسی پر لگنے والے حالیہ الزامات نے امریکہ کے اوقیانوس پار رشتوں کو متاثر کیا ہے۔
گذشتہ دنوں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے امریکی صدر سے یہ کہتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی کہ این ایس اے ان کے فون کی نگرانی کر رہا ہے جو باہمی ’اعتماد کی خلاف ورزی‘ ہے۔
دریں اثنا جرمن انٹیلی جنس کا ایک وفد اور یورپین یونین کے وزرا کا ایک وفد امریکہ میں موجود ہے اور اپنے امریکی اتحادی ملک سے جاسوسی کے الزامات کا جواب طلب کر رہا ہے۔
اس سے قبل جرمن میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ گذشتہ دس برس سے زائد عرصے سے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کے موبائل فون کی نگرانی کر رہا ہے۔
میڈیا میں ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے این ایس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ’صدر اوباما کو چانسلر میرکل کے موبائل کی مبینہ جاسوسی کی اطلاع کے بارے میں میڈیا میں آنے والی رپورٹیں بے بنیاد ہیں۔‘







