نیلسن منڈیلا کو آبائی قصبے میں سپردِ خاک کر دیا گیا

جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر آنجہانی نیلسن منڈیلا کو ان کے آبائی قصبے کونو میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔
تدفین کے موقع پر منڈیلا کی بیوہ گراسا مشیل اور جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما بھی موجود تھے اور یہ تدفین روایتی ژوہا انداز میں کی گئی۔
اس موقع پر جنوبی افریقی فضائیہ کے طیاروں نے منڈیلا کی میت کو سلامی بھی پیش کی۔
نیلسن منڈیلا پانچ دسمبر کو 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے اور ان کی یاد میں تقریبات دس دن سے جاری تھیں۔
کونو میں ان کی تدفین سے قبل منعقدہ تقریب میں اہم غیر ملکی شخصیات سمیت تقریباً ساڑھے چار ہزار افراد شریک ہوئے۔ اس تقریب میں متعدد سیاسی اور مذہبی شخصیات نے تقاریر میں نیلسن منڈیلا کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس موقع پر جیکب زوما نے کہا کہ جنوبی افریقی عوام کو منڈیلا کی روایات کو آگے بڑھانا ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تقریب کے بعد قومی پرچم میں لپٹے ہوئے نیلسن منڈیلا کے تابوت کو فوجی جوان خصوصی شامیانے سے پہاڑی پر واقع قبرستان لے گئے جہاں انہیں دفن کر دیا گیا۔
منڈیلا کے خاندان والوں نے انھیں روایتی ژوہا انداز میں دفن کرنے اور اس موقع پر چند سو افراد کی موجودگی کی درخواست کی تھی۔

تھیمبو قبیلے کے بہت سے اراکین منڈیلا کی تدفین سے قبل کی شب عبادت میں مصروف رہے اور روایتی انداز میں ان کی زندگی کے اہم واقعات کے بارے میں تعریفی گیت گاتے رہے۔
دس روزہ آخری رسومات کے اختتامی دن کا آغاز منڈیلا کے تابوت کی ان کی رہائش گاہ سے اس بہت بڑے شامیانے میں منتقلی سے ہوا جسے خصوصی طور پر تیار کیا گیا تھا۔
کونو میں مقامی افراد کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اس عظیم رہنما کو عقیدت پیش کرنے کے لیے تابوت کے لیے تعین شدہ راستے کی دونوں جانب جمع ہوں۔
اس تقریب میں شرکت کے لیے افریقی ممالک کے صدور، متعدد وزرائے اعظم، ایرانی نائب صدر اور برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کونو پہنچے۔
نیلسن منڈیلا کے پرانے ساتھی آرچ بشپ ڈیزمنڈ ٹوٹو بھی نیلسن منڈیلا کی تدفین کے لیے گئے۔
سنیچر کے روز منڈیلا کے جسدِ خاکی کو آخری آرام گاہ کی جانب سفر کے اختتامی مرحلے میں ان کے آبائی قصبے کونو لایا گیا تھا۔
دو لڑاکا طیاروں کی نگرانی میں ایک فوجی سی ون 30 طیارہ میّت کو لے کر متھا تھا ہوائی اڈّے پر پہنچا تو سوگوار موسیقی کی آواز میں جنوبی افریقی جھنڈے میں لپٹے تابوت کو جہاز سے اتارا گیا اور فوجی گارڈ آف آنر دیا گیا۔
گذشتہ تین دنوں کے دوران جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے جسد خاکی کے دیدار کے لیے کم از کم ایک لاکھ لوگ پہنچے تھے۔
ان کی نعش کو پریٹوریا میں دیدار عام کے لیے رکھا گیا تھا۔ لمبی قطار کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کے آخری دیدار سے محروم بھی رہ گئے۔







