شمالی کوریا کے رہنما کے پھوپھا کو’غداری‘ پر سزائے موت

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ملک کے نوجوان سربراہ کم جونگ ان کے پھوپھا کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت برطرف کرنے کے بعد سزائے موت دے دی گئی ہے۔
چانگ سانگ تیک کا شمار شمالی کوریا کے طاقتور رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انھیں اس ہفتے کے اوائل میں کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس سے مسلح محافظوں نے ڈرامائی انداز میں حراست میں لیا تھا۔
دو سال پہلے اپنے باپ کی وفات کے بعد کم جونگ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ ملک کا پہلا دہشت انگیز واقعہ ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق چانگ سانگ نے جمعرات کو ایک فوجی عدالت میں اس بات کا اعتراف کیا کہ انھوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔
اعتراف کے فوراً بعد انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
سنہ 2011 میں کم جونگ ال سے انتقالِ اقتدار کے دوران اپنے بھتیجے کی رہنمائی اور سرپرستی کرنے والے چانگ سانگ کو سرکاری خبر رساں ادارے نے ’کتے سے بدتر قرار دیا۔‘
خبر رساں ادارے نے کہا کہ انھوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹنے اور سیاسی عزائم رکھنے کا اعتراف کیا ہے۔
چانگ سانگ کی شادی سینیئر کم جونگ ایل کی بہن سے ہوئی تھی ا ور وہ حکمران جماعت اور قومی دفاعی کمیشن میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ اکثر کم جونگ ان کے ساتھ تصاویر میں نظر آتے تھے اور انھیں حکومت کا طاقتور پشت پناہ سمجھا جاتا تھا۔
امریکی وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ وہ اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکتے لیکن ان کے پاس اس میں ’شک کرنے کا کوئی جواز نہیں۔‘
وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ ’اگر اس کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ شمالی کوریا کے حکومت کی ظالمانہ اقدام کی ایک اور مثال ہوگی۔ ہم شمالی کوریا کی صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں اپنی اتحادیوں سے صلاح و مشورے کر رہے ہیں۔‘







