جوہری معاہدہ:’سفارتکاری کے ساتھ عسکری طاقت بھی ضروری‘

چک ہیگل بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہونے والے ’ڈائیلوگ‘ نامی علاقائی سکیورٹی کے ایک فورم سے بات کررہے تھے
،تصویر کا کیپشنچک ہیگل بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہونے والے ’ڈائیلوگ‘ نامی علاقائی سکیورٹی کے ایک فورم سے بات کررہے تھے

امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے میں سفارتکاری کے ساتھ ساتھ امریکی عسکری طاقت کی موجودگی بھی ضروری ہے۔

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہونے والے ’ڈائیلوگ‘ نامی علاقائی سکیورٹی کے ایک فورم سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنی فوجی قوت برقرار رکھے گا۔

حال ہی میں ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں کچھ سرگرمیاں ترک کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے عوض اس کے خلاف عائد چند پابندیاں نرم کر دی گئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عرب دنیا میں امریکہ کے اتحادیوں کو اس بات کا خدشہ ہے کہ ایشیا کی جانب امریکہ کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں اس کی دلچسپی ختم ہو جائے گی۔

چک ہیگل کا کہنا تھا کہ امریکہ کے خطے میں 35000 فوجی موجود ہیں اور وہ اس تعداد میں کمی نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ فوجی قوت کے اثر کے بغیر سفارتکاری اکیلے نہیں چل سکتی۔

’ہماری کامیابی کا انحصار امریکہ کی عسکری طاقت اور مشرقِ وسطیٰ میں ہمارے اتحادیوں کو دی گئی ہماری یقین دہانی کی ساکھ پر ہوگا۔‘

’ایران اب تک خطے کے ممکنہ عدم استحکام کے لیے ایک اہم عنصر رہا ہے اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران خطے اور عالمی استحکام کے لیے ایک ناقابلِ قبول خطرہ ہوتا۔‘

جنیوا میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے عبوری معاہدے کے مطابق ایران کے خلاف عائد پابندیوں میں سات ارب ڈالر مالیت تک کی نرمی کی جائے گی۔

اگرچہ اس معاہدے کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا تاہم اسرائیل کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایک تاریخی غلطی کی ہے۔ چند امریکی سینٹرز کا کہنا ہے کہ معاہدے میں ایران کے لیے شرائط بہت نرم ہیں۔

چک ہیگل کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے معنی خیز مذاکرات کے لیے وقت ملا ہے مگر دھوکے دینے کے لیے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سفارتکاری کے پیچھے حتمی طور پر خطے کے اتحادیوں کے ساتھ تعاون اور عسکری معاہدے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے امریکہ ایک لمبے عرصے کے بعد جنگوں سے باہر نکل رہا ہے، وہ اپنی ذمہ داریوں میں کمی نہیں کرے گا۔

چک ہیگل نے کہا کہ ’امریکہ کا اس خطے سے رشتہ دیر پا ہے۔‘

ستمبر میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد امریکہ کے شامی حکومت کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر سعودی عرب کی جانب سے بھی سخت ردِ عمل سامنے آیا تھا۔

سعودی حکام نے امریکہ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور کہا کہ امریکہ کی اس خطے کے لیے پالیسی بزدلانہ ہے۔