یوکرائن: پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا

یوکرائن کے دارالحکومت کیو میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے حامی سینکڑوں مظاہرین کو طاقت کے زور پر منتشر کردیا ہے۔
اس مظاہرے کے منتظم سرگئی ملنیشنکو نے کہا کہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا بھی استعمال کیا۔
یہ واقعہ سنیچر کو مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑے چار بجے پیش آیا۔
اطلاعات کے مطابق یورپی یونین سے شراکت کے معاہدے پر یوکرائن کے صدر وکٹر یانوکووچ کے دستخط کرنے سے انکار کے بعد مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق پولیس کی اس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
انٹر فیس یوکرائن نیوز ایجنسی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے ’کئی واقعات‘ کے بعد انھوں نے آزادی چوک کو خالی کرانے کا فیصلہ کیا۔
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ’واقعات‘ سے ان کی مراد کیا تھی یا وہ کن واقعات کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے یواکرائن کے صدر وکٹور یانوکووچ نے کہا تھا کہ انھوں نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت کے ایک معاہدے کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت یورپی یونین ممالک کے سامان کے لیے یوکرائن کی سرحدیں کھولی جاتیں اور لوگوں کی آمدو رفت میں آسانیاں پیدا ہوتیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ وہ اس معاہدے کے لیے روس کے ساتھ اپنی تجارت کی قربانی پیش نہیں کر سکتے کیونکہ روس اس معاہدے کا مخالف ہے۔
یوکرائن کے صدر کے اس فیصلے کے خلاف دارالحکومت کیو میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
جمعہ کو جب یانوکووچ لتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے اسی دوران تقریبً دس ہزار مظاہرین آزادی چوک پر جمع ہو گئے۔
مظاہرین یوکرائن اور یورپی یونین پرچم اٹھا کر ’یوکرائن یورپ ہے‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔







