’ازبکستان کی شہزادی‘ کی ٹوئٹر پر مہم

پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال ریاستی ٹی وی نے بھی گلنارا کریمووا کی سرپرستی میں ہونے والے سماجی پروگراموں کی کوریج نہیں کی
،تصویر کا کیپشنپچھلے سال کے مقابلے میں اس سال ریاستی ٹی وی نے بھی گلنارا کریمووا کی سرپرستی میں ہونے والے سماجی پروگراموں کی کوریج نہیں کی

ازبکستان کے صدر اسماعیل کریموف کی بیٹی گلنارا اسماعیلوونا کریمووا اپنے پوپ سٹار سٹائل اور سیاسی عزائم کے باعث ’ازبکستان کی شہزادی‘ کے نام سے مشہور ہیں۔

کچھ عرصے قبل تک گلنارا کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اپنے والد کی جگہ لیں گی۔ آج کل وہ ٹوئٹر پر اپنے مخالفین اور ملکی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

گلنارا ایسا اس لیے کر رہی ہیں کہ ان کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

گلنارا نے فرانسیسی اداکار ژیرار دیپاردیو کی ویڈیو میں کام کیا ہے اور اس کے علاوہ وہ ایک کامیاب کاروباری شخصیت بھی ہیں۔ وہ کئی ٹی وی چینلوں اور ریڈیو سٹیشنوں کے قریب رہی ہیں جو ان کو ایک مخیر خاتون اور فن کی سرپرست کے طور پر مشتہر کرتے ہیں۔

لیکن ان کی میڈیا میں تشہیر ایک دم ختم ہوتی جا رہی ہے۔ پچھلے ہفتے گلنارا کے حمایتی کچھ ٹی وی چینل اور ریڈیو سٹیشن بند ہو گئے، اور ایک میڈیا گروپ کے خلاف مالی بدعنوانی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال ریاستی ٹی وی نے بھی گلنارا کی سرپرستی میں ہونے والے سماجی پروگراموں کی کوریج نہیں کی۔

اس کے علاوہ لارا فابیاں پر تنقید کی گئی کہ ازبکستان کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ اچھا نہیں ہے تو انھوں نے بھی ازبکستان میں اپنا کانسرٹ منسوخ کر دیا۔

اس کے ردِعمل میں گلنارا کریمووا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ناقدین کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ یہ ازبکستان جیسے ملک میں غیر معمولی قدم ہے جہاں میڈیا پر پابندیاں عائد ہیں۔

گلنارا نے 13 نومبر کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ مسلح افراد نے ان کے بند ہونے والے ٹی وی چینل کے یوتھ سٹوڈیو میں توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے لکھا ’لوگوں کو مارا پیٹا گیا۔‘

گلنارا کی چھوٹی بہن لولا کریمووا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں میں کئی سالوں سے بات چیت نہیں ہوئی ہے
،تصویر کا کیپشنگلنارا کی چھوٹی بہن لولا کریمووا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں میں کئی سالوں سے بات چیت نہیں ہوئی ہے

لیکن ان کی حیرت انگیز ٹویٹ وہ تھی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف مہم کے پیچھے ملکی سکیورٹی کے سربراہ رستم عنایتوو ہیں جو خود صدر کے عہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایک ٹویٹ میں گلنارا سے پوچھا گیا کہ آیا رستم صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔ اس کے جواب میں انہوں نے جواب دیا ’وہ لیں گے! انھوں نے مہم شروع کردی ہے۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ ازبکستان کے اونچے طبقے میں اثر و رسوخ کی جنگ منظرِ عام پر آ گئی ہے اور سوال کیا جا رہا ہے کہ 75 سالہ صدر کریموف کی جگہ صدر کون بنے گا۔

صدارتی عہدے کے لیے گلنارا مضبوط امیدوار تھیں لیکن ملک میں اور بیرونِ ملک کئی مسائل نے ان کےامکانات کم کر دیے ہیں۔

ستمبر میں گلنارا کی مشکلات کا آغاز اس وقت ہوا جب ان کی چھوٹی بہن لولا کریمووا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بہنوں میں کئی سالوں سے بات چیت بند ہے۔

اس کے جواب میں گلنارا نے الزام عائد کیا کہ ان کی والدہ اور بہن جادو ٹونے کرتی ہیں۔