شام: فتوے میں کتے، بلیوں اور گدھے کا گوشت کھانے کی اجازت

شام میں جاری تنازع میں اقوام متحدہ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنشام میں جاری تنازع میں اقوام متحدہ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں

شام میں مسلمان علماء کے ایک گروپ نے فتویٰ دیا ہے کہ لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں بھوک کا شکار لوگ بلی، کتے اور گدھے کا گوشت کھا سکتے ہیں۔

علماء نے یہ فتویٰ شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں میں جھڑپوں کے دوران محصور ہونے والے افراد کے لیے دیا ہے۔

اسلام میں کتے، بلی اور گدھے کا گوشت انسانی استعمال کے لیے حرام ہے۔

ایک ویڈیو کے ذریعے دیے جانے والے اس فتوے میں علماء نے پوری دنیا پر زور دیا کہ وہ مضافاتی علاقوں میں لڑائی سے متاثرہ افراد کی مدد کرے۔

علماء کے مطابق ان علاقوں میں روزانہ ہونے والی جھڑپوں کی وجہ سے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

مسلمانوں کے مقدس تہوار عید الاضحیٰ کے موقع پر جاری ہونے والے فتوے میں ان علاقوں میں رہ جانے والے افراد کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ کتے، بلی اور گدھے کا گوشت کھا سکتے ہیں۔

ان علاقوں کے زیادہ تر حصوں پر باغیوں کا کنٹرول ہے اور سکیورٹی فورسز دفاعی نقطۂ نظر سے اس اہم حصے پر کنٹرول حاصل کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے۔

علماء کے مطابق اس علاقے میں صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔

شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے جاری تنازعہ کے دوران یہ پہلا موقع نہیں کہ اس طرح کا فتویٰ جاری کیا گیا ہو۔

اس گروپ نے شام کے شہر حلب اور حمص میں سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی کے دوران اسی طرح کا فتویٰ دیا تھا۔

امدادی اداروں کے مطابق شام میں لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں خوراک کی فراہمی کو اسی طرح ترجیح دینی چاہیے جیسی کے کیمیائی ہتھاروں کو تلف کرنے کے منصوبے پر دی جا رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں 2011 میں شروع ہونے والے تنازعے میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔