برازیل: کنفڈریشن کپ فائنل، مظاہرے جاری

برازیل میں فٹبال کے کنفڈریشن کپ کے موقع پر مظاہروں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے۔
سخت سکیورٹی انتظامات کے باوجود ہزاروں افراد نے ریو ڈی جنیرو کے معروف ماراکانہ سٹیڈیم کی طرف مارچ کیا۔ اطلاعات کے مطابق برازیل کی صدر ڈیلما روسیف فائنل میچ دیکھنے کے لیے نہیں آئیں۔ دو ہفتے قبل ٹورنامنٹ کی افتتاحی تقریب کے موقع اُن کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔
فائنل میں برازیل نے سپین کو تین صفر سے شکست دی۔
برازیل میں یہ مظاہرے اس ماہ آغاز میں شروع ہوئے تھے اور ان میں شامل افراد کا مطالبہ تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کیا گیا دس فیصد اضافہ واپس لیا جائے۔
تاہم اب یہ مظاہرے ایک ملک گیر احتجاج بن گئے ہیں اور مظاہرین بہتر تعلیم، سکولوں اور آمد و رفت کے نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کی شکایات میں اہم 2014 میں فٹ بال کے عالمی کپ اور 2016 میں ریو میں ہونے والے اولمپک مقابلوں کے اخراجات ہیں۔
اس سے پہلے اتوار کے روز چند مظاہرین نے برازیلین فٹبال اسوسی ایشن کے دفاتر کے باہر دھاوا بول دیا تاہم پولیس ان پر قابو پانے میں کامیاب رہی۔
مظاہرین نے برازیلین فٹبال اسوسی ایشن کے صدر ہوزے ماریہ مارین پر نااہلی کا الزام لگایا اور فٹبال کے عالمی کپ کی انتظامی کمیٹی پر تنقید کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ریو میں بی بی سی کی سارہ رینسفرڈ کا کہنا تھا کہ مظاہروں میں مختلف لوگوں کے مختلف مطالبات تھے۔ کچھ لوگ ریو کے ریاستی گورنر کی برطرفی تو کچھ لوگ عالمی کپ کے اخراجات بین الاقوامی تنظیم فیفا پر ڈالنے کا کہہ رہے تھے۔
چند روز قبل فورتالیزا شہر میں ایک اور مظاہرے میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربڑ کی گولیاں فائر کیں اور آنسو گیس استعمال کی۔
فورتالیزا میں بی بی سی کے نامہ نگار بین سمتھ نے بتایا تھا کہ مظاہرے کے دوران بعض لوگوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’ایک استاد نیمار سے زیادہ قیمتی ہے۔‘ نیمار برازیل کا فٹ بال سٹار ہے جس نے میکسیکو کے خلاف میچ کھیلا اور ایک گول بھی کیا۔
برازیل میں شورش ساؤپالو شہر میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے باعث شروع ہوئی اور بعد میں ملک بھر میں پھیل گئی اور اس کے دائرے میں عوامی خدمات اور بدعنوانی بھی آ گئے۔
ریو اور ساؤپالو کے حکام نے کہا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لے لیا جائے گا، جب کہ دوسرے کئی شہروں میں مظاہروں کے پیشِ نظر بس کے کرایوں میں کمی کی گئی ہے۔
گذشتہ چند دنوں میں برازیل میں مختلف شہروں میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا ہے۔







