گوگل، فیس بک، مائیکرو سافٹ سکیورٹی شفافیت کے حامی

گوگل نے امریکی اٹارنی جنرل کو لکھے خط میں امریکی ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی درخواستوں کو ظاہرکرنے کی اجازت چاہی ہے
،تصویر کا کیپشنگوگل نے امریکی اٹارنی جنرل کو لکھے خط میں امریکی ایجنسی کی جانب سے کی جانے والی درخواستوں کو ظاہرکرنے کی اجازت چاہی ہے

گوگل، فیس بک اور مائیکرو سافٹ نے امریکی حکومت سے سکیورٹی کے معاملے میں کی جانے والی درخواستوں کو منظر ِعام پر لانے کی اجازت مانگی ہے۔

واضح رہے کہ یہ درخواستیں سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے ان کمپنیوں کے صارفین کی معلومات سے متعلق ہیں۔

یہ مطالبہ اس دعوے کے بعد کیا گیا ہے جس میں یہ کہا گيا ہے کہ امریکی حکام کو ایپل اور گوگل سمیت نو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سرورز تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ ’درست نہیں‘ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے مزید کہا کہ رازداری کے قانون اس طرح کی درخواستوں کے تحت شبہات کو جنم دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ نے ’پرزم‘ نامی نگرانی کے پروگرام کی تصدیق کی ہے۔

گوگل کے چیف قانونی اہلکار ڈیوڈ ڈرمنڈ نے امریکی اٹارنی جنرل کو ایک خط لکھ کر یہ اجازت چاہی ہے کہ انھیں ’قومی سلامتی کی درخواستوں بشمول فارن انٹیلیجنس سرویلینس ایکٹ (فیسا) کے ذریعے موصول درخواستوں کو شائع کرنے کی اجازت دی جائے۔‘

انھوں نے خط میں کہا ہے کہ’گوگل کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ جتنے دعوے کیے جارہے ہیں ان کے مقابلے درخواستوں پر کی جانے والی تعمیل کے اعداد و شمار بہت کم ہیں۔‘

مائیکرو سافٹ کا کہنا ہے کہ درخواستوں کے متعلق زیادہ شفافیت سے لوگوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور اس اہم مسئلے پر بحث ہو سکے گی۔

فیس بک کے مشیر ٹیڈ ایلیئٹ نے کہا کہ ’سماجی رابطے کی بڑی کمپنیاں حکومت کی جانب سے کی جانے والی درخواستوں کے ساتھ ان پر کی جانے والی کارروائی کی مکمل تصویر پیش کرنا چاہتی ہیں۔‘

نگرانی کے پروگرام پرزم کے بارے میں یہ بات اس وقت منظر عام پر آئی جب سی آئي اے کے ایک اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے اس پروگرام کے بارے میں کئی انکشافات کیے۔

برطانوی اخبار گارڈین اور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع رپورٹ میں دعویٰ کیا گيا ہے کہ امریکہ میں نگرانی کا پہلے سے کہیں زیادہ وسیع نیٹ ورک رکھتا ہے۔

ڈرمنڈ
،تصویر کا کیپشناس انکشاف کے بعد پرائیویسی کے تحفظ کے بارے میں سوال اٹھنے لگے ہیں

سنوڈن نے گارڈین کو بتایا کہ ’نگرانی کرنے والے کسی بھی ای میل کو کسی بھی وقت دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم مشینوں میں بگ ڈال سکتے ہیں۔ جوں ہی آپ انٹرنیٹ پر آئیں گے ہم آپ کے کمپیوٹر کو پہچان لیں گے۔ آپ کسی بھی طرح محفوظ نہیں ہیں خواہ آپ کچھ بھی کرلیں۔‘

امریکی کی ٹیکنالوجی کی اہم کمپنیوں نے امریکی حکام کو حاصل اس قسم کی رسائی سے انکار کیا ہے۔

امریکی حکام نے اس پروگرام کا فیسا کے قانون کے تحت دفاع کیا ہے۔

سنوڈن کے انکشاف نے آن لائن سہولیات استعمال کرنے والوں کے حقوق کے بارے میں تشویش میں اضافہ کیا ہے۔