امریکی اور چینی صدور کی جون میں ملاقات

امریکی اور چینی صدور جون میں کیلی فورنیا میں سربراہی ملاقات کریں گے۔
ایک امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ براک اوباما اور شی جن پنگ سات اور آٹھ جون کو رینچو میراج پر ملیں گے۔
توقع ہے کہ ملاقات کے ایجنڈے پر شمالی کوریا، سائبر جاسوسی اور بحیرۂ جنوبی چین میں کشیدگی سرِفہرست رہیں گے۔
رواں برس مارچ میں شی کے صدر بننے کے بعد یہ ان کی امریکی صدر سے پہلی ملاقات ہے۔
شی نے بطورِ صدر پہلا دورہ روس کا کیا تھا، جس کے بعد وہ تین افریقی ممالک کے دورے پر گئے تھے۔ وہ ماضی میں امریکہ جا چکے ہیں اور نوجوانی میں انھوں نے وہاں خاصا وقت گزارا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ دونوں سربراہان ’دو طرفہ، مقامی اور عالمی مسائل پر تفصیلی مذاکرات کریں گے۔
’وہ گذشتہ چار برسوں میں امریکہ چین تعلقات میں پیش رفت اور چیلنجوں کا جائزہ لیں گے، اور آنے والے برسوں میں تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں اور باہمی اختلافات کو مثبت طریقے سے قابو میں رکھنے پر بات کریں گے۔‘
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان چن گینگ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’توقع ہے کہ یہ ملاقات چین امریکہ تعلقات اور مقامی اور بین الاقوامی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے طویل مدت اہمیت کی حامل ہو گی۔‘
امریکی قومی سلامتی کے مشیر ٹامس ڈونیلن مئی کے آخر میں چین جا کر ملاقات کے لیے تیاری کریں گے۔
طرفین نے ابھی تک ملاقات کے موضوعات کی تفصیل جاری نہیں کی، لیکن توقع ہے کہ 12 فروری کو شمالی کوریا کی جانب سے تیسرے ایٹمی دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی ایجنڈے پر شامل ہو گی۔ اس کے علاوہ ممکنہ طور پر شام کے بارے میں بھی بات کی جائے گی۔ امریکہ شام کے خلاف زیادہ سخت کارروائی کے لیے چین کی مدد مدد چاہتا ہے۔
اس کے علاوہ توقع ہے کہ مشرقی اور جنوبی بحیرۂ چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بھی بات ہو گی، جب کہ سائبر جاسوسی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ امریکہ حالیہ مہینوں میں اس مسئلے پر خاصا کھل کر بولتا رہا ہے۔







