پہلے بیرونی دورے کے لیے بھارت کا انتخاب

بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعے اور باہمی سفارتی کشیدگی کے چند روز بعد چینی وزیر اعظم لی كی چيانگ اتوار سے تین روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں۔
مارچ میں چینی حکومت میں تبدیلی کے بعد لی كی چيانگ کا یہ پہلا بیرون ملک کا دورہ ہے۔ چینی وزیر اعظم دہلی کے علاوہ ممبئی بھی جائیں گے۔
چینی وزیر اعظم کے اس بھارتی دورے سے یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اس دورے میں دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سرحد کے تنازعات پر بات چیت کریں گے۔
اس کے علاوہ لی کے ایجنڈے میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو فروغ دینے کے معاملے پر بات چیت بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ لی کے چیانگ کے ہمراہ ایک بڑا تجارتی وفد بھی بھارت کے دورے پر آ رہا ہے۔
بھارت کی سب سے بڑی سافٹ ویئر برآمد کرنے والی کمپنی ٹاٹا كنسلٹینسي سروسز کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرنے کے لیے چین کا وفد ممبئی جائے گا جس میں خود لی چیانگ بھی شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ چین کے وزیر اعظم ایک ہندوستانی ڈاکٹر دواركاناتھ كوٹنس کے رشتہ داروں سے بھی ملاقات کریں گے جنہوں نے 1938 میں چین جاپان جنگ کے دوران چینی فوجیوں کا علاج کیا تھا۔
بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے چائنا نیشنل ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے وکٹر گاؤ زیكائی نے کہا: ’چین نے روس سمیت 13 سے 14 پڑوسی ممالک کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعے سلجھا لیے ہیں۔ بھارت وہ واحد ملک ہے جس کے ساتھ یہ معاملہ ابھی تک طے نہیں کیا جا سکا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی ٹی آئی کے مطابق وکٹر گاؤ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع ’برطانوی سامراج‘ کی دین ہے اور دونوں ممالک کو اس بات پر یقین ہے۔
وکٹرگاؤ کے مطابق اس دورے کے دوران کوئی غیر متوقع اقدامات کی امید نہیں ہے لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق وکٹر گاؤ چین کو تبدیل کرنے والے رہنما دینگ ژاؤ پنگ کے مترجم رہ چکے ہیں اور کافی بااثر مانے جاتے ہیں۔

گاؤ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور ریلوے کے شعبے میں تعاون کے خاصے امکانات ہیں۔
بڑے بھارتی کاروباریوں سے ملتے وقت دونوں ممالک کی طرف سے اس بات کی کوشش کی جائے گی کہ چینی منڈی میں بھارتی مصنوعات کیسے بہتر طریقے سے پہنچائی جائیں۔
دریں اثنا چینی وزیر اعظم کے بھارتی دورے سے ایک روز قبل سنیچر کو دارالحکومت دہلی میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔
نیشلسٹ فورم آف انڈیا کے تحت ہونے والے اس مظاہرے کو دائیں بازو کی سخت گیر ہندو طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی حمایت بھی حاصل تھی۔
دوسری جانب بھارت میں مقیم تبت کے باشندے اور تارکین وطن بھی چینی وزیر اعظم کے بھارت دورے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جمعے کو ان لوگوں نے دہلی میں مظاہرہ کیا تھا۔







