امریکہ:تیمرلان کی لاش کو دفنانے پر تنازع

امریکی شہر بوسٹن میں میراتھن بم دھماکوں کے ملزم تیمرلان سارنائیف کی لاش کو دفنانے کے لیے قبرستان کی تلاش میں مشکل کو سامنا ہے۔
امریکی ریاست میساچوسٹس کے علاقے ورسیسٹر میں واقع میت خانے میں ان کی لاش رکھی گئی ہے اور اس میت خانے کا مظاہرین نے گھیراؤ کر رکھا ہے۔
اس میت خانے کو تیمرلان سارنائیف کی لاش کو دفنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ان کی لاش جمعرات کو طبی معائنے کے بعد میت خانے کے حوالے کی گئی۔
میت خانے کے ڈائریکٹر پیٹر سٹیفن کو تیمرلان کی موت کی جو سند دی گئی ہے اس کے مطابق ان کی موت کی وجہ گولیاں لگنے اور گہرے زخم بیان کی گئی ہے۔
پیٹر سٹیفن نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ہر کسی کو دفن ہونے کا حق حاصل ہے، یہ معنی نہیں رکھتا کہ یہ کون ہے، میں کسی کا انتخاب نہیں کر سکتا‘۔
اس سے پہلے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں قبر کی جگہ تلاش کر رہا ہوں، بہت سارے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ نہیں کیا جائے، اور وہ اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو پروقار طریقے سے دفنائے جانے کا حق حاصل ہے۔

اس میت خانے کے باہر لوگ جمع ہیں اور احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق تیمرلان سارنائیف کو جب پولیس نے انہیں گولی ماری تو اس وقت ان کے بھائی جوہر ان کو روندھتے ہوئے ایک گاڑی میں فرار ہو گئے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ میراتھن کو بم دھماکوں میں نشانہ بنائے جانے کا مقصد کیا تھا۔
تیمرلان سارنائیف کا تعلق روس کے علاقے چیچنیا کے ایک مسلمان گھرانے سے ہے اورگزشتہ ایک دہائی سے امریکہ میں رہائش پذیر تھے۔ بعد میں تیمرلان سارنائیف انتہا پسندی کی جانب راغب ہو گئے۔
تیمرلان سارنائیف کی بیوی رسل کیتھرین نے طبی معائنے کے دفتر سے ان کی لاش موصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے تیمرلان سارنائیف کے رشتہ داروں سے کہا تھا کہ وہ لاش پر دعویٰ اور ان کو دفنانے کی انتطامات کر سکتے ہیں۔
گزشتہ ماہ بوسٹن میراتھن میں ہونے والے دو دھماکوں میں تین افراد ہلاک اور ایک سو اسی کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔
تیمرلان سارنائیف کے بھائی جوہر سارنائیف ہسپتال میں پولیس کی تحویل میں ہیں اور ان پر بڑی تباہی پھیلانے والا ہتھیار استعمال کرکے لوگوں کو قتل کرنے کا فردِ جرم عائد کیا گیا ہے۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں سزائے موت ہو سکتی ہے۔







