بوسٹن دھماکے ’دہشت گردی کی کارروائی‘ : اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما بوسٹن دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی مذہبی رسومات میں شرکت کرنے کے لیے جمعرات کو بوسٹن جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ باراک اوباما نے کینساس کا پہلے سے طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔
امریکی ریاست میساچوسٹس کے دارالحکومت بوسٹن میں پیر کو میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے پہلے امریکہ کے صدر براک اوباما نے بوسٹن دھماکوں کی مزمت کرتے ہوئے انہیں ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا تھا۔
امریکی صدر نے ان حملوں کو نفرت انگیز اور بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ یہ کس نے اور کیوں کیا؟
خیال رہے کہ براک اوباما نے پیر کو بوسٹن میں ہونے والے دھماکوں کے بعد پہلی بریفینگ میں اس کارروائی کو دہشت گردی سے منسوب کرنے سے گریز کیا تھا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ابھی اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ آیا ان دھماکوں کی ذمہ دار کوئی جماعت یا کوئی بد خواہ ہے۔
براک اوباما نے کہا اس وقت تمام صورت حال قیاس پر مبنی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم اس واقعے کی تہہ تک پہنچیں گے اور پتہ چلائیں گے کہ ہماری شہریوں کو کس نے نقصان پہنچایا اور واقعہ کے ذمہ داروں کو ڈھونڈ لیں گے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچائیں گے‘۔
امریکی صدر نے دھماکوں کے بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے امدادی کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے فوری ردعمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی دہشت گروں سے مرعوب نہیں ہوں گے۔
ادھر امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے تحقیقات کو’ممکنہ دہشت گردی‘ کی تفتیش بیان کیا ہے۔
ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ بوسٹن میں ہونے والے دو دھماکوں سے پہلے کسی اضافی خطرے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
امریکی ریاست میساچوسٹس کے دارالحکومت بوسٹن میں میراتھن ریس کی اختتامی لائن کے قریب ہونے والے دو دھماکوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
ریاست میساچوسٹس کےگورنر ڈیول پیٹرک نے منگل کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پیر کو دھماکوں کی جگہ سے کچھ مشتبہ ڈیوائسز بھی ملی تھیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہاں سے صرف اور صرف دو دھماکہ خیز ڈیوائسز ملی تھیں۔
ڈیول پیٹرک کا کہنا تھا کہ تمام مشتبہ پارسلز کا معائینہ کیا گیا اور مزید کوئی بم نہیں ملا۔

ایف بی آئی کے ایجنٹ اور بوسٹن دھماکوں کی تفتیشی ٹیم کے سربراہ رچرڈ نے میڈیا کو بتایا کہ شہر کو کسی بھی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آئی کو بوسٹن میراتھن سے پہلے کسی بھی پیشگی خطرے کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کو دھماکوں کے بعد عوام کی جانب سے بھاری بھر کم ٹپس ملی ہیں تاہم انہوں نے عوام سے تفتیش کاروں سے تعاون کرنے کی استدعا کی۔
خیال رہے کہ انیسوں صدی کے آخر میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں شروع ہونے والی یہ میراتھن ریسں دنیا کی چھ بڑی میراتھن ریس میں شامل ہے۔
دوسری جانب بوسٹن میں پیر کو ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک آٹھ سال کا بچہ بھی شامل ہے۔
اس بچے کی شناخت مارٹن رچرڈ کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ بچہ بم دھماکوں کے وقت میراتھن کی اختتامی لائن کے قریب موجود تھا۔
اس بچے کی والدہ اور بہن بھی اس حادثے میں شدید زخمی ہوئی تھیں۔
رچرڈ خاندان کے ایک دوست نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ دھماکے میں مارٹن کی والدہ اور والد بھی زخمی ہوئے۔
مارٹن رچرڈ کے والد بل رچرڈ نے ایک بیان میں اپنے دوستوں اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان سے رچرڈ کے مرنے کی تعزیت کی۔







