ایران:زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری

ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں منگل کی شام آنے والے شدید زلزلے کے بعد نقصان کا اندازہ لگانے اور تلاش اور بچاؤ کے عمل کے لیے ٹیمیں متاثرہ علاقے میں پہنچ گئی ہیں۔
امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق خش اور سراوان کے درمیانی علاقے میں آنے والے اس زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ آٹھ ریکارڈ کی گئی ہے۔
زلزلہ ایران کے مقامی وقت کے مطابق شام تین بج کر چودہ منٹ پر آیا۔
زلزلہ اتنا شدید تھا کہ اس کے جھٹکے مشرق وسطیٰ اورجنوبی ایشیا میں بھی محسوس کیے گئے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے ابتدائی طور پر زلزلے سے چالیس ہلاکتوں کی خبر دی تھی تاہم اب ایرانی ٹی وی کے مطابق زلزلے سے پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق وہاں متاثرہ علاقہ صحرائی ہے اور زیادہ تر آباد نہیں اور وہاں کافی فاصلے پر چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں۔
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ ملک میں گزشتہ چالیس برس میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ تھا۔
ایرانی ہلالِ احمر نے متاثرہ علاقوں میں بیس امدادی ٹیمیں اور تین ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تنظیم کے اہلکار حسن اسفندیاری نے بی بی سی اردو کو بتایا زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں سے مواصلاتی روابط منقطع ہوگئے ہیں اور نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے خش اور سراوان کی جانب ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ جنوب مشرقی ایران میں رواں ماہ کی دس تاریخ کو بھی ایک زلزلہ آیا تھا جس میں کم از کم 37 افراد ہلاک اور 850 زخمی ہوگئے تھے۔







