
امریکی نائب صدر اور اوباما کے ساتھ دوبارہ صدارت کی دوڑ میں شامل جوزف بائڈن کی سب سے بڑی طاقت ان کی خارجہ امور کی سمجھ بوجھ ہے جو براک اوباما کی سب سے بڑی کمزوری سمجھی جاتی تھی۔
براک اوباما نے بائڈن کی اس مہارات کا استعمال ری پبلکن پارٹی کے حملوں سے بچنے لیے کیا جب ان پر الزام لگایا جاتا تھا کہ وہ کمانڈر ان چیف کے عہدے کے لیے ناتجربہ کار ہیں۔
براک اوباما اگر بہت پر سکون طبیعت کے مالک ہیں تو جو بائڈن بہت سخت اور تجربہ کار ہیں۔
صدارتی انتخاب کی دوڑ میں بھی وہ نئے نہیں ہیں۔ دوہزار آٹھ کی صدارتی انتخاب کی دوڑ کے شروع میں وہ پارٹی کے اندر اوباما کے مقابلے پر کھڑے ہوئے تھے لیکن جنوری میں پیچھے ہٹ گئے اور اوباما کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ س سے قبل انیس سو اٹھاسی میں بھی وہ صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل رہ چکے ہیں۔
بائڈن کو واشنگٹن کی سیاست کا بہت اچھا تجربہ ہے۔ وہ انیس سو بہتر سے ایک چھوٹی سی امریکی ریاست ڈیلاویئر سے سینیٹ کی نمائندگی کر تے رہے ہیں۔ سینیٹ میں خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے وہ تین بار صدر رہ چکے ہیں۔
جو بائڈن نے عراق کی جنگ کی حمایت کی تھی تاہم اس کے بعد وہ عراق میں طویل مدت تک رکنے کی ضرورت اور اس پر آنے والے اخراجات کے بارے میں خبردار کرتے رہے ہیں۔

بائڈن نے نائب صدارت کے امیدواروں کی بحث میں اپنے حریف پر واضح برتری حاصل کی جس سے اوباما کی مہم کو تقویت ملی۔
اس کے علاوہ وہ عراق کو آبادی کی مناسبت سے تقسیم کر کے ایک وفاقی ڈھانچے کو رو بہ عمل لانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ جوبائدن کے صاحب زادے بیو بائڈن نیشنل آرمی گارڈ میں ہیں اور وہ عراق میں تعینات رہے ہیں۔
اس دور میں جو بائڈن نے کہا تھا کہ ان کا بیٹا عراق جائے گا لیکن وہ نہیں چاہتے ہیں کہ وہ وہاں جائے۔ ان کا کہنا تھا ’کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ اگلے پندرہ سال کے دوران بھی میرے پوتے پوتیاں وہاں دوبارہ جائیں‘۔
جو بائڈن انیس سو بیالیس میں ریاست پین سیلونیا کے قصبے سکرینیٹن کے ایک کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ بعد میں ان کا خاندان ڈیلاویئر منتقل ہوگیا جہاں سے انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
وہ پہلی بار انیس سو بہتر میں سینیٹر منتخب ہوئے جب ان کی عمر انتیس سال تھی۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ سینیٹ کی نشست سنبھالتے، ان کی اہلیہ اور شیرخوار بچی کار کے حادثے میں ہلاک ہو گئیں۔
جو بائڈن ان سفید فام ووٹروں کو ڈیموکرٹیک پارٹی کی طرف راغب کرنے کا سبب بنےجو براک اوباما کے لیے مشکل بنے رہے۔
بائڈن کو خارجی امور کا وسیع تجربہ ہے اور وہ واشنگٹن میں برسوں سے کام کر رہے ہیں۔ ان کی یہ صلاحیت براک اوباما کے لیے بڑی مدد گار ثابت ہوئی ہے۔
دو ہزار سات میں جو بائڈن نے براک اوباما کے متعلق کہا تھا کہ وہ پہلے افریقی امریکی ہیں جو بہت واضح بولتے ہیں، صاف ستھرے ہیں اور اچھے دکھتے ہیں۔

جو بائڈن کو خارجہ امور اور واشنگٹن کی سیاست کا ماہر مانا جاتا ہے اور اس معاملے میں انہوں نے اوباما کو شروع سے تقویت دی ہے۔
جو بائڈن نے دو ہزار بارہ کے شروع میں ہی ایک بیان میں کہہ دیا کہ وہ ہم جنسوں کے مابین شادیوں کے حق میں ہیں جب کہ اس وقت اوباما کا موقف واضح نہیں تھا، اس لیے کہا جانے لگا کہ وائٹ ہاؤس کے معاونین اس پر ناخوش تھے۔ تاہم کچھ ہی دنوں میں صدر اوباما کا یہ موقف سامنے آ گیا کہ وہ ہم جنس پرست امریکیوں کو شادی کا حق دینے کو قانونی شکل دینے کے حق میں ہیں۔
بائڈن بعض اوقات مصلحت سے بالا زبان استعمال کر جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ پوری انتخابی مہم کے دوران صدر اوباما کے معاونین یہ دعائیں مانگتے رہے کہ وہ ایسا کم سے کم ہی کریں۔
اگر صدر اوباما اس بار دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ اگلی بار ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار بائڈن ہو سکتے ہیں کیونکہ اس انتخاب میں بطور نائب صدر کامیابی ان کے لیے اگلے انتخاب میں صدارتی امیدوار کے پارٹی ٹکٹ کی راہ بھی ہموار کر دے گی۔






























