
گذشتہ ہفتے صدارتی امیدواروں کے بیچ ہونے والے مباحثے میں صدر باراک اوباما کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی تھی
امریکی نائب صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں نے اُس کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور انھوں نے اپنے ریپبلکن حریف پال رائن کو چیلنج کیا کہ وہ بتائیں کہ ان کی ایران پالیسی اوباما حکومت سے مختلف کیسے ہو گی۔
یہ بات انھوں نے امریکہ میں صدارتی انتخاب کے سلسلے میں نائب صدر کے امیدواروں کے درمیان جمعرات کی شب مباحثے کے دوران کہی۔
اس بحث میں قومی سلامتی، معیشت اور قومی نظامِ صحت کے موضوعات پر دلچسپ بحث ہوئی۔
موجودہ نائب صدر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن نے جارحانہ انداز اپنایا ہوا تھا جبکہ ان کے حریف ریاست وسکاسن کے کانگرس مین پال رائن قومی سطح پر اپنے پہلے مباحثے میں قدرے پُر اطمینان نظر آئے۔
یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے صدارتی امیدواروں کے بیچ ہونے والے مباحثے میں صدر باراک اوباما کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی تھی۔
بعد میں صدر نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا برتاؤ شاید زیادہ نرم تھا۔
مباحثے کا آغاز لیبیا میں امریکی سفیر کی ہلاکت اور اس معاملے میں اوباما حکومت کے ردِ عمل پر بات چیت سے ہوا۔
دونوں امیدواروں نے ایران کے موضوع اور امریکہ اسرائیل تعلقات پر بحث کی۔
پال رائن کا کہنا تھا کہ ’جب باراک اوباما منتخب ہوئے، اس وقت ایران کے پاس ایک بم بنانے کے لیے جوہری مواد تھا اور آج ان کے پاس پانچ بم بنانے کے لیے مواد موجود ہے۔‘
پال رائن نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ صدر اوباما کو ایک انتہائی کمزور معیشت ورثے میں ملی تھی تاہم ان کا کہنا تھا ہم اس وقت غلط سمت میں جا رہے ہیں۔






























