امریکہ: غزہ کے مسائل کے حل کی کوششیں

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ غزہ کے مسائل کے حل کے لیے نئے راہیں تلاش کر رہا ہے۔

بائیڈن، حسنی مبارک
،تصویر کا کیپشنغزہ کے مسئلے کے حل کے لیے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے اسرائیل نے غزہ کے امدادی بحری قافلے پر خونی حملہ کیا تھا

مصر کے تفریحی مقام شرم الشیخ میں صدر حسنی مبارک کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکہ کے نائب صدرجو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ مصر اور اپنے دیگر اتحادیوں سے مشورہ کررہا ہے کہ غزہ کی معاشی، سیاسی، سیکیورٹی اور انسانی بنیادوں پر کس طرح مدد کی جاسکتی ہے۔

مصر کے صدر کے ساتھ نوے منٹ طویل ملاقات کے بعد نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ ملاقات میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کی کوششوں، عراق اور افغانستان کی صورتحال، سوڈان کی سیاسی صورتحال اور ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔

نائب امریکی صدر کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی برداری غزہ کے لیے امدادی سامان لیجانے والے بحری بیڑے پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کر رہی ہے۔

امدادی بیڑے پر اسرائیلی کے حملے کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور ساٹھ کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔

اسرائیل پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کر دے۔

اسرائیل کے حملے کے بعد مصر کے صدر نے فوری طور پر غزہ کے ساتھ رفاہ کی سرحد کھولنے کا حکم دیا تھا تاکہ غزہ کے متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں اور اس ساتھ ایسے فلسطینی جو تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں وہ جا سکیں۔

خیال رہے کہ غزہ کا اسرائیل کے علاوہ صرف مصر سے زمینی رابط ہے۔

مصر کے ایک اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ رفاہ کی سرحد کے ذریعے غزہ میں صرف امدادی سامان اور طبی امداد لیجانے کی اجازت دی جائے گی۔

دریں اثناء فلسطین کے علاقے غزہ میں پیر کو اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے پانچ فلسطینیوں کی تدفین کردی گئی ہے۔

یہ افراد غزہ کے ساحل کے قریب، ایک چھوٹی کشتی میں سوار تھے جب اسرائیلی فوج نے اُن پر فائرنگ کردی۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ پانچوں افراد مسلح تھے اور وہ اسرائیلی فوج پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ تاہم فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق الاقصاء بریگیڈ سے تھا لیکن حملے کے وقت وہ نہتے تھے اور تیراکی کی تربیت لے رہے تھے۔