آپریشن کا مقصد، استحکام لانا ہے: بائڈن

چار ہزار میرین کے ساتھ امریکی فوج نے ہلمند میں بڑی فوجی کارروائی جمعرات کی صبح شروع کی تھی
،تصویر کا کیپشنچار ہزار میرین کے ساتھ امریکی فوج نے ہلمند میں بڑی فوجی کارروائی جمعرات کی صبح شروع کی تھی

امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی اور افغان فوج کے مشترکہ آپریشن کا مقصد افغانستان میں استحکام پیدا کرنا ہے تاکہ وہاں سیاسی اور معاشی ترقی شروع ہو سکے۔

فوجی طیارے پر عراق کے سفر کے دوران انہوں نے کہا کہ افغانستان میں فوجی طاقت ضروری ہے کیونکہ اصل مسئلہ معیشت اور سیاسی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ہم وہاں مزید دستے بھیج رہے ہیں لیکن حتمی مقصد ملک کی انتظامیہ اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے جس کے لیے امریکہ افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

ادھر برطانیہ کی حکومت نے دو روز قبل ہلمند میں ہلاک ہونے والے افسر کے بارے میں کہا ہے کہ وہ انیس سو بیاسی کے بعد ہلاک ہونے والے برطانوی فوج کے سینئیر ترین آفیسر ہیں۔کرنل روپرٹ تھارنیلیو فرسٹ بٹالین دی ولش گارڈز کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔ وہ اُس بکتر بند گاڑی میں موجود تھے جو گزشتہ بدھ کو ہلمند کے علاقے لشکر گاہ میں بارودی سرنگ کے ٹکرانے سے تباہ ہو گئی تھی۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار کے مطابق یہ سوال کیا جائے گا کہ وہ اِسی گاڑی میں کیوں سفر کر رہے تھے جو عام طور پر کم خطرناک جگہوں پر استعمال کی جاتی ہیں۔ادھر مشرقی صوبے پکتیکا میں طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے امریکی فوجی کے بارے میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ اپنے فوجی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

اس سے قبل افغانستان میں امریکی فوج کا کہنا تھا کہ مشرقی افغانستان میں شدت پسندوں نے ایک امریکی فوجی کو پکڑ لیا گیا۔ فوج نے اب کہا ہے کہ اس فوجی کو تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے جس ’طالبان‘ نے پکڑ لیا ہے۔