’افغانستان میں مزید قیام کر سکتے ہیں‘

جو بائڈن کا بطور نائب صدر افغانستان کا پہلا دورہ ہے
،تصویر کا کیپشنجو بائڈن کا بطور نائب صدر افغانستان کا پہلا دورہ ہے

امریکہ کے نائب صدر جو بائڈن نے کہا ہے کہ دو ہزار چودہ میں افعانستان سے انخلاء کے پروگرام کے باوجود اگر افغان عوام رکنے کے لیے کہے گی تو رک جائیں گے۔

یہ بات انھوں نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان صدر کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرس میں کہی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی نائب صدر جو بائڈن نے کہا کہ ’اگر افغانستان چاہے گا تو دو ہزار چودہ کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی امریکہ افغانستان میں قیام کر سکتا ہے۔‘

’امید ہے کہ ہم مکمل طور پر افغان سکیورٹی فورسز کو اس قابل بنا دیں گے کہ وہ ملک میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں، لیکن اگر وہ چاہیں گے تو ہم نہیں جائیں گے۔‘

امریکی نائب صدر نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ نے شدت پسندوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے افغانستان کو اپنی سکیورٹی کی ذمہ داریاں خود سنبھالنے کی ضرورت ہے اور پاکستان طالبان کو روکنے کے لیے مزید کارروائیاں کرے۔

رائٹرز کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ ملاقات بعد جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امریکی نائب صدر نے کہا ہے کہ’ ہمارا افغانستان میں حکومتی امور چلانے کا کوئی ارادہ نہیں اور یہ افغان عوام کی ذمہ داری ہے اور وہ اس کے قابل ہیں۔‘

واضح رہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ سال دو ہزار چودہ تک افغانستان میں سکیورٹی انتظامات افغان حکومت کے حوالے کر دیے جائیں اور اس حوالے سے افغان فوج اور پولیس کی تربیت کے لیے وافر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں۔

افغانستان میں اس وقت اتحادی افواج کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار کے قریب ہے اور ان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ستانوے ہزار ہے۔

گزشتہ سال افغانستان میں سنہ دو ہزار ایک کے بعد سے اتحادی افواج کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔