اسرائیل کی پھر مذمت

جو بائیڈن نے غرب اردن میں محمود عباس سے ملاقات کی امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل کی اس کے متازعہ منصوبے پر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس منصوبے کا اعلان کرکے مذاکرات کے عمل میں بد اعتمادی کی فضا پیدا کر کے نقصان پہنچایا ہے۔

امریکہ نائب صدر جو بائیڈن نے یہ بیان غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے ایک ملاقات کے بعد دیا۔

محمود عباس نے اس موقع پر کہا کہ اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں سولہ سو مکانات کی تعمیر کے منصوبے کے اعلان نے مذاکرات کے عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے کو ختم کیا جائے۔

اسرائیل نے اس منصوبے کا اعلان امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن کے دورے کے عین دوران کیا تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے اعلان کا جوبائیڈن کے دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی راہنما بلواسط مذاکرات کا عمل شروع کرنا پر رضامند ہو گئے تھے جو کہ گزشتہ سترہ ماہ سے تعطل کا شکار تھا۔

تاہم اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں سولہ سو نئے گھر تعمیر کرنے کے منصوبے کے اعلان نے اس عمل کے لیے پھر خطرہ پیدا کر دیا ہے اور فلسطینی راہنماوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس اعلان سے لگتا ہے اسرائیل کو یقین ہے کہ امریکہ کی یہ کوششیں ناکام ہو جائیں گی۔

جو بائیڈن نے محمود عباس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ ایسے تمام بیانات کی مذمت کرتے ہیں جن سے اس عمل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اس عمل میں مستقل مزاجی سے متحرک کردار ادا کرے گا لیکن انھوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ فریقین پر لازم ہے کہ وہ معاملات کو مزید پیچیدہ نہ کریں۔

جو بائیڈن نے کہا کہ امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل اور فلسطین دونوں تاریخی طور پر جرت مندانہ فیصلے کریں۔

محمود عباس نے کہا کہ وہ اسرائیل کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ’یہ وقت دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کے قیام کے لیے ساز گار ہے۔ ایک اسرائیلی ریاست جو فلسطینی ریاست کے ساتھ امن سے رہے۔‘

تاہم محمود عباس نے اسرائیل کے نئے تعمیراتی منصوبے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس نے امن کے عمل کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

محمود عباس نے اسرائیل نے کی طرف سے یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے سے انکار کے بعد اس کے ساتھ براہ راست بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔

گزشتہ سال نومبر میں امریکہ کی طرف سے زبردست دباؤ کے بعد اسرائیل نے نئی بستیوں کی تعمیر دس ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن یروشلم کی بلدیاتی حدود کے اندر تمام علاقے کو یہ اپنا حصہ تصور کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ پابندی وہاں پر لاگو نہیں ہوتی۔

انیس سو سڑسٹھ میں غرب اردن اور مشرقی یروشلم پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے اب تک یہاں پانچ لاکھ یہودیوں کو آباد کیا گیا ہے جو کہ سو سے زیادہ بستیوں میں آباد ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ان بستیوں کو غیر قانونی تصور کیا جاتا ہے لیکن اسرائیل اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتھن یاہو نے امریکی نائب صدر کو گزشتہ روز بتایا تھا کہ یہ منصوبہ تین سال پرانا ہے اور اس کے اعلان کی انھیں پیشگی کوئی اطلاع نہیں تھی۔

امریکہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کی اس وضاحت کو ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ یہ بیروکریسی کے فیصلے کرنے کے عمل کا حصہ تھا۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار جرمی بون کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دانستہ یا نہ دانستہ طور پر اوباما انتظامیہ کی بے عزتی کی ہے اور اس کے رد عمل میں انھوں نے جو بیان دیئے ہیں وہ بھی اس کی عکاسی کرتے ہیں۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی اسرائیل کے اس اعلان کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ یہ ایک بُرا فیصلہ تھا اور اس کا وقت بھی غلط تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہ اعلان ان لوگوں کو سچا ثابت کر دے گا جو کہتے ہیں کہ اسرائیل امن کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہے۔