’شدت پسند پاکستان کی سالمیت کے دشمن ہیں‘

امریکہ اس مسئلے کا سبب نہیں بلکہ اس کا حل ہے:بائیڈن
،تصویر کا کیپشنامریکہ اس مسئلے کا سبب نہیں بلکہ اس کا حل ہے:بائیڈن

امریکہ کے نائب صدر جوزف بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ اسلام کا دشمن نہیں اور پاکستان کی سالمیت کی اصل خلاف ورزی امریکہ نہیں بلکہ وہ شدت پسند کرتے ہیں جو ہزاروں عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کر چکے ہیں۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو افغانستان سے پاکستان پہنچنے کے بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ ایک نیوز بریفنگ کے دوران کہی۔

<link type="page"><caption> امریکی نائب صدر کا دورۂ پاکستان: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/01/110112_pics_biden_pakistan_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق جوزف بائیڈن نے کہا کہ پاکستان کے پرتشدد انتہا پسند نہ صرف امریکہ بلکہ پاکستان اور پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ القاعدہ نے تاحال تین ہزار کے قریب امریکی شہری قتل کیے ہیں اور وہ اب بھی حملوں کے منصوبے بناتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’القاعدہ کے شدت پسند پاکستان کے دور دراز علاقوں میں چھپے ہیں اور مقامی پرتشدد انتہا پسند ان کے اتحادی ہیں، جنہوں نے ہزاروں پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو قتل کیا ہے‘۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ یہ تاثر بھی غلط ہے کہ امریکہ نے القاعدہ کے خلاف اپنی جنگ پاکستان پر مڑھ دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی تو پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ ’امریکہ اس مسئلے کا سبب نہیں بلکہ اس کا حل ہے اور ہم پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر شدت پسندوں کا پیچھا کرتے ہیں‘۔

جوزف بائیڈن نے کہا کہ ’ہم یہ سنتے ہیں کہ امریکہ (پاکستان کی) سالمیت کی خلاف ورزی کر رہا ہے لیکن میں بہت احترام سے کہنا چاہتا ہوں کہ سالمیت کی خلاف ورزی دراصل وہ شدت پسند کر رہے ہیں جو ان علاقوں میں سرگرم ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ جو پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اسلام کا احترام نہیں کرتا یا ماضی کی طرح اب بھی تنہا چھوڑ دے گا، ایسی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہر کوئی ماضی سے سیکھتا ہے اور امریکہ پاکستان کا طویل المدتی پارٹنر ہے اور توانائی، زراعت، مواصلات، سکیورٹی اور دیگر شعبوں میں تعاون کرے گا کیونکہ امریکہ خوشحال اور جمہوری پاکستان چاہتا ہے کیونکہ ایسا ہی پاکستان، پورے خطے اور دنیا کے مفاد میں ہے‘۔

ان کے بقول ’اسلام امریکہ میں تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے، لاس اینجلس میں دنیا کی ایک بڑی مسجد واقع ہے اور امریکہ اسلام کا احترام کرتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’میں چیلنج کرتا ہوں کہ دنیا کے کسی ایک ملک کا نام بتا دیں جہاں امریکہ سے زیادہ عبادت کی آزادی حاصل ہے‘۔

انہوں نے پنجاب کے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے قتل کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ ’پوری دنیا کو رنج ہوا ہے کیونکہ وہ ایک عمدہ اور بہادر شخص تھے اور وہ برداشت کی آواز تھی اور ان کا قتل کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے‘۔

اس موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا پاکستان امریکہ کے ساتھ باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر پارٹنرشپ کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے پاکستان نے امریکہ کے ساتھ سنہ دو ہزار گیارہ کے لیے نظام الاوقات یا کیلنڈر تیار کیا ہے۔

جو بائیڈن وزیراعظم گیلانی سے ملاقات سے قبل صدر زرداری سے بھی ملے
،تصویر کا کیپشنجو بائیڈن وزیراعظم گیلانی سے ملاقات سے قبل صدر زرداری سے بھی ملے

انہوں نے بتایا کہ جوزف بائیڈن سے انہوں نے پاکستان کے دو طرفہ، خطے کی سلامتی اور افغانستان میں امن اور پائیدار ترقی کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کا معاملہ امریکی نائب صدر کے دورے کی ‘ہائی لائٹ’ ہوسکتا ہے اور یہ نکتہ فریقین میں اختلاف رائے اور طویل بحث کا موضوع رہا ہے۔

اس بات کا عندیہ جوزف بائیڈن کی جانب سے بریفنگ جلد ختم کرنے پر صحافیوں سے معذرت سے بھی ہوتا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ’میں جنرل کیانی سے ملاقات کی وجہ سے جلدی جانے پر معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں کبھی جرنیلوں کی ملاقات میں تاخیر نہیں کرتا‘۔