
غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ چند روز ہی برقرار رہ سکا ہے
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں موجود عسکریت پسندوں نے اسرائیل میں چھبیس راکٹ داغے ہیں جس کے بعد حماس اور اسرائیل کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا غیر سرکاری جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔
ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔
ان حملوں سے چند ہی گھنٹے پہلے اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کارروائی سے پہلے اسرائیل نے غزہ کے ایک شہری کو مبینہ طور پر مارٹر گولوں سے فوجیوں پر حملہ کرنے کے الزام میں ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد مسلح افراد نے اسرائیلی حدود میں راکٹ حملے کیے۔
مصر کی مدد سے جمعرات کے روز اسرائیل اور غزہ میں بر سرِ اقتدار فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان، کئی روز کی جھڑپوں کے بعد، ایک غیر سرکاری نوعیت کا جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا تھا جس کے بعد لڑائی میں کمی دیکھی گئی تھی۔
اس معاہدے کی شرائط یا مدّت کے بارے میں کچھ ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
گذشتہ ہفتے غزہ پر اسرائیل کے ہوائی حملوں میں چھ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔ چار اسرائیلی شہری اور ایک فوجی غزہ کی سرحد پر ایک سڑک کنارے نصب بم حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز سات راکٹ داغے گئے۔ اتوار کے روز جنوبی قصبے خان یونس پر ہونے والے ہوائی حملے میں ہلاک ہوئے عسکریت پسند کا تعلق حماس کے مسلح ونگ ازدین القاسم بریگیڈ سے تھا۔
اسرائیل پر ہونے والے راکٹ حملوں میں حماس کے عسکریت پسند ملوث رہے ہیں جن میں سے بیشتر تنظیم کے چھوٹے چھوٹے دھڑوں نے کیے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ تمام راکٹ حملوں کا ذمہ دار حماس کو ٹھراتے ہیں۔






























