
حالیہ دنوں میں اسرائیل اور فلسطین کی سرحد پر تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے فضائی حملے میں دو فلسطینی شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی ملٹری کا کہنا ہے کہ انھوں نے فضا سے شدت پسندوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب انھوں نے زمین پر گشت کرنے والی ایک اسرائیلی دستے پر مارٹر سے حملہ کیا تھا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ گشتی دستہ غزہ کے شہر بیت الحنین میں داخل ہو گیا تھا۔
مرنے والے دو فلسطینیوں میں سے ایک کا تعلق حماس سے جبکہ دوسرے کا تعلق فلسطینیوں کی پاپولر مزاحمتی کمیٹی پی آر سی سے بتایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں سرحد پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیلی ملٹری کا کہنا ہے کہ سوموار کو اسرائیل کے جنوبی علاقے میں غزہ سے تین راکٹ داغے گئے لیکن ان میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی خبر نہیں ہے۔
حماس کے علاوہ دوسرے جنگجو دھڑوں نے حالیہ دنوں میں اسرائیل کے خلاف راکٹ سے حملے تیز کر دیے ہیں لیکن حال ہی میں حماس کا مصلح شبعہ بھی اس مہینے کے اوائل میں راکٹ اور مارٹر حملوں میں شامل تھا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ سے ہونے والے تمام حملوں کی ذمہ داری وہ حماس پر ڈالتا ہے کیونکہ یہ علاقہ اسی کے کنٹرول میں ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ تشدد کی اس لہر میں قطری امیر کے غزہ کے دورے سے ایک دن قبل تیزی آئی ہے۔
واضح رہے کہ حماس کے دو ہزار سات میں اقتدار میں آنے کے بعد یہ کسی بھی ملک کے سربراہ کا غزہ کا پہلا دورہ ہے۔






























