
اسرائیل نے غزہ پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے جسے توڑنے کی کئی ناکام کوشش ہو چکی ہے۔
اسرائیلی بحریہ نے غزہ جانے والی فلسطین کے حامی کارکنوں کی ایک امدادی کشتی کو روک دیا ہے۔
یہ کشتی غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی محاصرے کوتوڑ کرفلسطینیوں کے لیے امدادی سامان پہنچانے کی نئی کوشش تھی۔
اسٹیلے نامی اس کشتی پر فن لینڈ کا جھنڈا لہرا رہا تھا اور یہ اٹلی کے ساحلی شہر نیپلس سے سات اکتوبر کو روانہ ہوئی تھی۔ خبروں کے مطابق اس کشتی پر آٹھ ممالک سے تعلق رکھنے والے بیس افراد سوار تھے۔
واضح رہے کہ حماس کے اس ساحلی پٹی پر اختیار حاصل کرنے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
اسرائیل کی دفاعی فوج کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی بحریہ کشتی میں داخل ہو ئی اور اس کوشش میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے اس بارے میں مزید معلومات دینے سے انکار کر دیا ہے۔
فلسطینی رضاکاروں نے کہا ہے کہ کشتی کو غزہ کے ساحل سے تیس ناٹیکل میل پہلے ہی روک لیا گیااور اس کے بعد اسے اسرائیلی بندرگاہ اشدود لے جایا جا رہا ہے۔
یہ اسٹیلے مبینہ طور پر طبی سازو سامان اور سیمنٹ لے جا رہا تھا۔ یہ غزہ کے خلاف محاصرے کو توڑنے کی تازہ کوشش تھی اور یہ کوشش ماوی مرمرا نامی ترکی رضاکاروں کی کوشش کے دو سال بعد سامنے آئی ہے۔
واضح رہے کہ ماوی مرمرا میں نو ترکی رضاکار ہلاک ہو گئے تھے جس کے بارے میں اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی محاصرہ تو جائز ہے لیکن طاقت کا ناجائز استعمال ہوا ہے۔
فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ یہاں آباد لوگوں کے لیے اجتماعی سزا کی طرح ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ ناکہ بندی ہتھیاروں اور دوسری جنگی چیزوں کی سپلائی کو روکنے کے لیے ہے تاکہ حماس انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
واضح رہے کہ دو ہزار دس میں ایک فلوٹیلا کو محاصرہ توڑنے سے باز رکھنے کے لیے جو خونی اقدام کیے گئے تھے اس کے بعد سے اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھا ہے اور اس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں جاری ناکہ بندی میں نرمی کی گئی ہے اور زیادہ مقدار میں خوراک بھیجنے کی اجازت ہے۔
بہرحال لوگوں کی آمد و رفت اور تعمیری سازو سامان جیسے سیمنٹ اور اسٹیل وغیرہ کے لانے لے جانے پر سخت پابندی ہے۔






























