’غزہ رہنے کے قابل جگہ نہیں رہے گا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 21:23 GMT 02:23 PST

اگرچہ غزہ میں حالیہ سالوں میں کچھ معاشی ترقی ہوئی ہے لیکن یہ پائیدار معلوم نہیں: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں بنیادی سہولیات میں بہتری کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے گے تو یہ سال دو ہزار بیس تک رہنے کے قابل جگہ نہیں رہے گی۔

رپورٹ کے مطابق صحت، پانی، تعلیم اور صفائی جیسا بنیادی ڈھانچہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں بہتری کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے۔

ایک اندازے کے مطابق سال دو ہزار بیں میں غزہ کی پٹی کی آبادی سولہ لاکھ سے بڑھ کر اکیس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

غزہ میں سال دو ہزار سات میں اسلامی جماعت حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی مزید سخت کر دی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ مصر کے تعاون سے غزہ کی ناکہ بندی ضروری ہے تاکہ حماس تک اسلحہ پہنچنے کو روکا جا سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں تازہ پانی کا واحد ذریعہ ہو سکتا ہے کہ سال دو ہزار سولہ تک استعمال کے قابل نہیں رہے۔

اقوام متحدہ کے حکام نے اپنی رپورٹ میں صورتحال میں بہتری کے راہ میں حائل مسائل کی نشاندہی کی ہے جن میں غزہ کی ناکہ بندی اور پرتشدد تنازع ہے۔

غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی سرگرمیوں کے سربراہ میکسویل گیلارڈ کے مطابق’ایک شہری علاقے کی بقا اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ اس کا رابط نہ ہو یا کسی سے منسلک نہ ہو۔‘

اس وقت غزہ کی پٹی میں نہ تو ہوائی اڈہ اور نہ ہی بندرگاہ ہے اور اس کی معیشت کا انحصار بیرونی امداد اور مصرکے ساتھ سرحد پر سرنگوں کے ذریعے سمگلنگ پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ غزہ میں حالیہ سالوں میں کچھ معاشی ترقی ہوئی ہے لیکن یہ پائیدار معلوم نہیں ہوتی ہے اور غزہ میں نوے کی دہائی کے برعکس اب صورتحال ابتر ہے۔

یہاں سال دو ہزار گیارہ میں بے روز گاری کی شرح انتیس فیصد تھی اور اس کے بعد خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔

]]>