غزہ میں بےروزگاری سب سے زیادہ

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنغزہ میں عام لوگوں کے لیے کام نہیں ہے

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سال دو ہزار دس کے اواخر میں دنیا میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح فلسطینی علاقے غزہ میں تھی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں گزشتہ سال یہ شرح پینتالیس اعشاریہ دو فیصد رہی جو عالمی سطح پر بے روزگاری کی سب سے بلند شرح ہے۔

غزہ سے متعلق یہ رپورٹ ایک ایسے وقت آئی ہے جب اس علاقے پر اسرائیلی ناکہ بندی کے پانچ برس پورے ہو رہے ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کا کہنا ہے کہ حالت اتنی بری ہے کہ مزدوری میں ایک تہائی سے زیادہ کی گراوٹ آئی ہے۔

اس علاقے سے برآمدات پر تقریباً مکمل پابندی سے نجی کاروبار بہت بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اسرائیل نے دو ہزار چھ میں عسکریت پسندوں کی جانب سے اس کے ایک فوجی گلاڈ شالط کو پکڑنے کے بعد غزہ پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

اس واقعے کے ایک برس بعد جب حماس نے غزہ سے فتح کے کارکنان کو نکال کے اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا تو پابندیاں مزید سخت کر دی گئی تھیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کے ترجمان کرس گنیس نے رپورٹ کے متعلق ایک بیان میں کہا ’یہ بہت ہی پریشان کن صورت حال ہے اور تارکین وطن جو غزہ کے پندرہ لاکھ کی آبادی کے دو تہائی ہیں، اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔‘

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس سے جہاں ایک طرف نجی کاروبار بہت بری طرح متاثر ہوا ہے تو دوسری جانب حماس کی قیادت میں سرکاری سیکٹر ان چند شعبوں میں سے ایک ہے جہاں حکومت کی طرف سے ہزاروں لوگوں کو ملازمت دینے سےمعاشی ترقی ہوئی ہے۔

مسٹر گنیس کا کہنا ہے کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دو ہزار سات سے سرکاری سیکٹر ملازمت میں تقریباً پانچویں حصے کا اضافہ کر سکی ہے۔

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنبے روز گار لوگوں کی روزی روٹی بیرونی امداد پر منحصر ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ناکہ بندی کی پالیسی کا مقصد حماس انتظامیہ کو کمزور کرنا تھا تو سرکاری ملازمتوں میں تعداد سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں ناکامی ہوئی ہے۔‘

غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان ڈونیسین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی یہ دیکھ سکتا ہے کہ غزہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہوئے ہوتی ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق غزہ کے مرکز میں واقع ایک پارک کے اندر ہر بینچ پر نوجوان ‎کو سگریٹ نوشی کرتے دیکھ جا سکتا ہے جو باتیں کرتے رہتے ہیں اور اپنے آپ کو دھوپ سے بچانے کے لیے سائے میں پناہ لیتے رہتے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کے خلاف پابندیاں اور ناکہ بندی ہتھیاروں کی سمگلنگ روکنے اور حماس پر دباؤ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے غزہ کی آبادی کو اجتماعی طور پر سزا دی جا رہی ہے۔

گزشتہ برس ترکی کے نو کارکنوں کی ہلاکت کے بعد عالمی سطح پردباؤ کے سبب اسرائیل نے ان پابندیوں میں کچھ نرمی کا اعلان کیا تھا۔

مصر میں بھی حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد وہاں کی حکومت نے رافح سرحد کو کھول دیا ہے لیکن اس سے ابھی تجارت کی اجازت نہیں ہے۔