غزہ ناکہ بندی:’صورتحال اب بھی مخدوش‘

اسرائیل نے رواں سال جون میں عالمی دباؤ کے بعد غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کرنے کا اعلان کیا تھا
،تصویر کا کیپشناسرائیل نے رواں سال جون میں عالمی دباؤ کے بعد غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی کرنے کا اعلان کیا تھا

امدادی ایجنسیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیموں کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی معاشی ناکہ بندی میں نرمی کے چھ ماہ بعد وہاں حالات میں معمولی سی بہتری آئی ہے۔

’امید کو پاش پاش کرنا: غزہ کی ناکہ بندی کا تسلسل رہنا‘ نامی یہ رپورٹ آکسفیم ، ایمنسٹی انٹرنشیل اور سیو دی چلڈرن سمیت مختلف اکیس تنظیموں نے مرتب کی ہے۔

فلسطینی علاقے میں کام کرنے والی امدادی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ سے زیادہ تر برآمدات پر پابندی کی وجہ سے معیشت مخدوش ہو رہی ہے۔

آکسفیم انٹرنیشل کے ڈائریکٹر جرمی ہوپس کا کہنا ہے کہ’ اسرائیل اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے اور ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری کی عدم توجہ کی وجہ سے غزہ میں فلسطینی صاف پانی کی عدم دستیابی، بجلی، روزگار اور پر امن مستقبل کے حوالے سے محرومی کا شکار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ غزہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے وہاں محصور شہریوں کو ضرورت کی امداد کا ایک معمولی حصہ ہی فراہم کیا جا سکا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ خوراک اور شہری استعمال کی اشیا کی درآمدات میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ دو ہزار سات میں جب معاشی ناکہ بندی سخت کی گئی تھی سے پہلے کے مقابلے میں ایک تہائی ہیں۔

اس کے علاوہ غزہ کی تعمیر نو میں درکار تعمیراتی سامان کے ایک چھوٹے سے حصے کی اجازت ہے۔

رواں سال جون میں اسرائیل نے اقوام متحدہ جیسی تنظیموں کو غزہ میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے تعمیراتی سامان لیے جانے کی اجازت دی تھی لیکن رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اقوام متحدہ کے صرف سات فیصد تعمیراتی منصوبوں کی منظوری دی ہے۔

رواں ماہ کے شروع میں غزہ میں اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی’ یو این آر ڈبلیو اے‘ کے ڈائریکٹر جان گنگ کا کہنا تھا کہ ’نام نہاد نرمی‘ کے بعد سے غزہ میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں میں کوئی معنی خیز تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انھوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ بین الاقوامی برداری کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبے کو مسترد کر رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ سے تقریباً تمام برآمدات پر پابندی عائد ہے جس کی وجہ سے غزہ کی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں امدادی تنظیم کرسچین ایڈز کی سربراہ کا کہنا ہے کہ برآمدت پر جاری پابندی کی وجہ سے غزہ معاشی طور پر مخدوش ہو چکا ہے۔‘

غزہ سے اس وقت صرف تھوڑی تعداد میں پھولوں اور سٹرابیری برآمدت کرنے کی اجازت ہے۔

غزہ کی کراسنگ کو کنڑول کرنے والے اسرائیلی دفتر کے ترجمان میجر گے انبار نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنظیموں کا رپورٹ میں کیا گیا دعویٰ جانبدار اور مسخ شدہ ہے اور عوام کو گمراہ کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ غزہ میں جانے والے امدادی ٹرکوں میں رواں سال جون سے بانوے فیصد اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دو ہزار سات میں ناکہ بندی سخت کرنے سے پہلے غزہ میں جو امدادی ٹرک جاتے تھے اب ان کا ایک معمولی حصہ جاتا ہے۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے ابھی تک رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن رواں ماہ کے شروع میں اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ جیسی تنظیمیں ایک پوائنٹ بھول رہی ہیں۔ ’ اقوام متحدہ نے کمرے میں ہاتھی سے متعلق بات کرنے انکار کیا۔‘

’ کیوں غزہ میں برآمدات اور کبھی درآمدات کے حوالے سے مسئلے ہیں؟ کیوں سرحد کی ناکہ بندی کی گئی ہے؟ کیونکہ وہ ( غزہ) ایسا علاقہ ہے جو دہشت گرد قرار دی گئی تحریک کے قابو میں ہے۔‘