’رپورٹ کی کوئی ساکھ نہیں‘

ترکی نے اس اسرائیلی انکوائری کی مذمت کی ہے جس کے مطابق فلوٹیلا پر اسرائیلی بحریہ کی کارروائی جائز تھی۔
ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ نہ تو اسرائیلی انکوائری کی کوئی قدر ہے اور نہ ہی کوئی ساکھ۔
اسرائیلی انکوائری کے مطابق گزشتہ مئی میں غزہ جانے کی کوشش کرنے والے امدادی جہاز پر اسرائیلی بحریہ کی کارروائی جائز تھی۔
اس حملے میں انسانی حقوق کے نو کارکن ہلاک ہوئے تھے جن کا تعلق ترکی سے تھا۔ عالمی سطح پر اس حملے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ غالباً اسرائیل ناقدین اس رپورٹ کو یکطرفہ کہہ کر مسترد کر دیں گے۔
گزشتہ سال اقوامِ متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس واقعہ میں اسرائیلی بحریہ نے ’ ناقابلِ برداشت حد تک‘ بربریت کا مظاہرہ کیا تھا۔
اسرائیل کی اس کارروائی سے ترکی کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے جو اس کا پرانا اتحادی ملک تھا۔
اسرائیل کی 300 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلوٹیلا پر اسرائیلی بحریہ کا حملہ اور غزہ کا بحری محاصرہ دونوں قانونی طور پر درست ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ تحقیقاتی پینل جون میں تشکیل دیا گیا تھا جس کی قیادت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جیکب ترکیل کر رہے تھے۔
گزشرہ برس 31 مئی کو جہازوں کا ایک قافلہ غزہ کا اسرائیلی محاصرہ توڑنے کے لیے غزہ کی سمت جا رہا تھا۔ ان امدادی جہازوں میں 600 سے زیادہ امدادی کارکن سوار تھے۔
اسرائیل کا کہنا تھا کہ جب ان جہازوں پر سوار لوگوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے بحریہ کے جوانوں پر بندوقوں اور چھریوں سے حملہ کیا جبکہ امدادی کارکنوں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جہاز پر آتے ہی فائرنگ شروع کر دی تھی۔







